Showing posts with label محمودہ غازیہ. Show all posts
Showing posts with label محمودہ غازیہ. Show all posts

Monday, 28 February 2022

آغاز بہار کا پہلا دن

 آغاز بہار کا پہلا دن


مصائب الجھنیں بے تابیاں بے خوابیاں لکھوں

مگر کھیتوں کی شادابی

گلوں کی رونقیں کلیوں کا دھیما حسن روشن پھول انگارے

فلک پر جگمگاتے ماہ و انجم کا سجیلا پن

صبا کی شوخیاں نرمی ہوا کی گل کا پیراہن

Sunday, 26 December 2021

آسمان کی پناہ کی حد کوئی نہیں

 پناہ


فضا میں معلق

یہ شاخیں ہیں یا جڑیں ہیں

اس بوڑھے برگد کی

جس پہ زمین تنگ ہو گئی ہے

ہماری طرح

Friday, 24 December 2021

جنگل میں اگر تم نے دیکھا

 من تو شدم


جنگل میں اگر تم نے دیکھا ہو، ہرن ہوتے ہیں

ہرن کی سنہری کھال اور ہندو لڑکیوں جیسی گہری آنکھیں

ان دیکھے شکاری کا پھینکا ہوا ایک تیر

مرتے ہوئے ہرن کی آنکھیں باتیں کرتی ہیں

یہ جانے بغیر کہ شکاری کون تھا

Monday, 20 December 2021

میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی

 بے طلب


میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی

جب تک خواہشیں مجھ سے نہ کھینچ جائیں

یہ کافی ہے اور میرے لیے سب

میری گردن پر میرے محبوب کا چہرہ سجا دو

یا میری روح کو آزاد ہو جانے دو

Sunday, 19 December 2021

اپنے بدن کا خوف

 اپنے بدن کا خوف


واقعات اور یادیں

چھوٹی چھوٹی معمولی باتیں

حواس کو روندنے لگتی ہیں

دماغ کی بے شمار لچھیاں

کھینچنے اور اُلجھنے لگتی ہیں

Saturday, 18 December 2021

دکھ کی پرچھائیں

 دکھ کی پرچھائیں


بے حسی کی دبیز چادریں

سارے احساس سو گئے

اور میں

اپنی سوچوں سے ہو کے بے پردہ

اپنی آنکھوں کی ساری پرچھائیوں کو