آغاز بہار کا پہلا دن
مصائب الجھنیں بے تابیاں بے خوابیاں لکھوں
مگر کھیتوں کی شادابی
گلوں کی رونقیں کلیوں کا دھیما حسن روشن پھول انگارے
فلک پر جگمگاتے ماہ و انجم کا سجیلا پن
صبا کی شوخیاں نرمی ہوا کی گل کا پیراہن
آغاز بہار کا پہلا دن
مصائب الجھنیں بے تابیاں بے خوابیاں لکھوں
مگر کھیتوں کی شادابی
گلوں کی رونقیں کلیوں کا دھیما حسن روشن پھول انگارے
فلک پر جگمگاتے ماہ و انجم کا سجیلا پن
صبا کی شوخیاں نرمی ہوا کی گل کا پیراہن
پناہ
فضا میں معلق
یہ شاخیں ہیں یا جڑیں ہیں
اس بوڑھے برگد کی
جس پہ زمین تنگ ہو گئی ہے
ہماری طرح
من تو شدم
جنگل میں اگر تم نے دیکھا ہو، ہرن ہوتے ہیں
ہرن کی سنہری کھال اور ہندو لڑکیوں جیسی گہری آنکھیں
ان دیکھے شکاری کا پھینکا ہوا ایک تیر
مرتے ہوئے ہرن کی آنکھیں باتیں کرتی ہیں
یہ جانے بغیر کہ شکاری کون تھا
بے طلب
میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی
جب تک خواہشیں مجھ سے نہ کھینچ جائیں
یہ کافی ہے اور میرے لیے سب
میری گردن پر میرے محبوب کا چہرہ سجا دو
یا میری روح کو آزاد ہو جانے دو
اپنے بدن کا خوف
واقعات اور یادیں
چھوٹی چھوٹی معمولی باتیں
حواس کو روندنے لگتی ہیں
دماغ کی بے شمار لچھیاں
کھینچنے اور اُلجھنے لگتی ہیں
دکھ کی پرچھائیں
بے حسی کی دبیز چادریں
سارے احساس سو گئے
اور میں
اپنی سوچوں سے ہو کے بے پردہ
اپنی آنکھوں کی ساری پرچھائیوں کو