Monday, 20 December 2021

میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی

 بے طلب


میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی

جب تک خواہشیں مجھ سے نہ کھینچ جائیں

یہ کافی ہے اور میرے لیے سب

میری گردن پر میرے محبوب کا چہرہ سجا دو

یا میری روح کو آزاد ہو جانے دو

یہ بھی کافی ہے اور میرے لیے بہت ہے

میں اس کی خواہش سے کچھ کم ہوں یا ذرا زیادہ

ظاہر ہے گرد مجھے چھپا لیتی ہے

میری روح میرے ہونٹوں پر ہے

اڑنے کے لیے بے تاب

کیا اس کے ہونٹ مجھے امن کا سبق دیں گے؟

اور یہ بھی میرے لیے بہت ہے


محمودہ غازیہ

No comments:

Post a Comment