مجھ سے ہٹ کر دیکھیۓ، مجھ کو بھلا کر دیکھیۓ
میری الفت کا فسوں کچھ دور جا کر دیکھیۓ
آئینے کے جھوٹ پر ہرگز نہ کیجیۓ اعتبار
اپنے جلووں کو مِری خلوت میں آ کر دیکھیۓ
💓کیمیا تاثیر ہے یہ ذرۂ ناچیز دل
گر کسی کی یاد میں اس کو مٹا کر دیکھیۓ
مرگِ کیفِ عشق ہے ہنگامۂ روزِ وصال
دردِ الفت کا مزا فرقت میں جا کر دیکھیۓ
بس پسِ مژگاں ہی رکھیۓ آتشِ سیالِ غم
عمر بھر کی پونجیوں کو کیوں بہا کر دیکھیۓ
کتنے غنچے مضطرب ہیں دل میں کھِلنے کے لیے
اپنے ہاتھوں سے ذرا نشتر لگا کر دیکھیۓ
حسن کے ہاتھوں میں پہلے بے نوا بن جائیے
اقتدارِ عشق کا پھر لطف اٹھا کر دیکھیۓ
ڈھونڈئیے پھر بحرِ ظلمت میں مرادوں کے گہر
کشتیاں پہلے سرِ ساحل جلا کر دیکھیۓ
خشک پتھر کی رگوں میں منتظر سیرابیاں
تشنگی کی آگ سینے میں جلا کر دیکھیۓ
غم کے داغوں سے نہ ڈرئیے، ان سے پھوٹے گی بہار
ان گُلوں کو طاقِ ہستی پر سجا کر دیکھیۓ
گرمئ گفتار سے جب کچھ نہ حاصل ہو سکے
بے زبانی کی زباں بھی آزما کر دیکھیۓ
چاہیۓ ٭آسی٭ اگر لطفِ حیاتِ جاوداں
اپنی ہستی ان کی چوکھٹ پر فنا کر دیکھیۓ
مفتی تقی عثمانی
٭مفتی صاحب نے عام غزلوں میں آسی کا تخلص استعمال کیا ہے
No comments:
Post a Comment