Showing posts with label حیدر علی آتش. Show all posts
Showing posts with label حیدر علی آتش. Show all posts

Saturday, 8 October 2022

عشق کے سودے سے پہلے درد سر کوئی نہ تھا

 عشق کے سودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا 

داغِ دل خندہ زن،۔ زخمِ جگر کوئی نہ تھا 

جوہری کی آنکھ سے دیکھے جواہر بیشتر

لعلِ لب سا لعل، دنداں سا گُہر کوئی نہ تھا 

خوبصورت یوں تو بہتیرے تھے، لیکن یار سا

نازنیں، نازک بدن، نازک کمر، کوئی نہ تھا

Tuesday, 20 July 2021

وحشی تھے بوئے گل کی طرح سے جہاں میں ہم

وحشی تھے بُوئے گُل کی طرح سے جہاں میں ہم 

نکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم 

شیدائے رُوئے گُل نہ ہیں شیدائے قد سرُو 

صیّاد کے شکار ہیں اس بُوستاں میں ہم 

نکلی لبوں سے آہ کہ گردُوں نشانہ تھا 

گویا کہ تیر جوڑے ہوئے تھے کماں میں ہم 

Sunday, 9 August 2020

کوچۂ یار میں چلیے تو غزل خواں چلیے

کوچۂ یار میں چلیے تو غزل خواں چلیے
بلبلِ مست کی صورت سے گلستاں چلیے
دن کو ملتا نہیں وہ ماہ، نہیں تو کہتا
رات بھر کے لیے، گھر میں مِرے مہماں چلیے
پاؤں میں تار ہے رفتار کی طاقت باقی
پیچھے پیچھے تِرے اے عمرِ گریزاں چلیے

ہوائے دورِ مئے خوشگوار راہ میں ہے

ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے
خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے
گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بلند آج نہایت غبار راہ میں ہے
شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طفلی
ہنوز حسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے

Monday, 16 January 2017

چاند کہتا ہے غلط یار کے رخساروں کو

چاند کہتا ہے غلط یار کے رخساروں کو
نسبتِ ذرۂ خورشید نہیں تاروں کو
اے صنم ہووے نہ خورشید قیامت طالع
دھوپ میں تو نہ بٹھا اپنے گنہگاروں کو
حسنِ یوسف کو ترے حسن سے نسبت کیا ہے
پھونک دے گرمئ بازار خریداروں کو

سر کاٹ کے کر دیجیے قاتل کے حوالے

سر کاٹ کے کر دیجیے قاتل کے حوالے
ہمت مری کہتی ہے کہ اِحسان بلا لے
ہر قطرۂ خوں سوز دروں سے ہے اک اخگر
جلاد کی تلوار میں پڑ جائیں گے چھالے
یوں دیتے ہیں وہ عاشقِ بے صبر کو بوسہ 
جیسے کوئی صدقہ کرے بھوکے کے حوالے

Thursday, 12 January 2017

غم نہیں ثابت قدم کو گو جہاں گردش میں ہے

غم نہیں ثابت قدم کو گو جہاں گردش میں ہے
قطب کو جنبش نہیں ہے آسماں گردش میں ہے
حیف ہے بے نشہ اس مے خانے میں انساں رہے
روز و شب جام مہ خورشید یاں گردش میں ہے
تیغ ابرو جس قدر چاہے برش پیدا کرے
چشم فتاں یار کی مثل فساں گردش میں ہے

پاس رسوائی سے دل مردے کا سا جبر ہے

پاسِ رسوائی سے دل مردے کا سا جبر ہے
ضبط نالہ ہجر کی شب میں فشارِ قبر ہے
صاف میرے آنسوؤں کا تار ہے اِس کی جھڑی 
دیدۂ تر کا کسی عاشق کے رومال ابر ہے
پہلے پروانے سے مغز شمع میں لگتی ہے آگ
بے تأمل حسن بھی ہے، عشق اگر بے صبر ہے

سرخ مہندی سے نہیں اس بت خوں خوار کے ہاتھ

سرخ مہندی سے نہیں اس بتِ خونخوار کے ہاتھ
دست آویز مِرے خوں کی لگی یار کے ہاتھ
بندگی کی یہ تمنا ہے کوئی لے جو ہمیں
بکتے ہیں کوڑیوں کے مول خریدار کے ہاتھ
نیم جاں دل ہے طلب گاہ سلوکِ شمشیر
آبرو اپنی ہے اب ابروئے خمدار کے ہاتھ

Tuesday, 10 January 2017

بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا

بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا
چھری جو تیز ہوئی، پہلے میں حلال ہوا
گرد ہوا تو اسے چھوٹنا محال ہوا
دلِ غریب مِرا مفلسوں کا مال ہوا
تِرے شہید کے جیبِ کفن میں اے قاتل
گلال سے بھی ہے رنگ عبیر لال ہوا

برنگ آئینہ یاں رہ نہیں عشق مجازی کو

برنگ آئینہ یاں رہ نہیں عشق مجازی کو
صفائے قلب نے حاصل کیا ہے پاکبازی کو
ہماری خاک کو اے شہ سوارو عرش دکھلایا
خدا ہمت زیادہ دے تمہاری تُرک تازی کو
مآل کار ہے دعوٰئ باطل کا پشیمانی
خدا سے اے بتو سیکھو طریقِ کارسازی کو

داغ دل زخم جگر ہے نعمت الوان عشق

داغِ دل، زخمِ جگر ہے، نعمت الوانِ عشق
سیر اپنی جان سے ہو جاتے ہیں مہمانِ عشق
نعمت دنیا کو کر دیتا ہے تلخ اس کا مزا
شیرۂ جاں سے ہے شیریں حلوۂ دکانِ عشق
زلفِ لیلیٰ سے سوا ہر سطر سودا خیز تھی
ہو گیا دیوانہ مجنوں پڑھتے ہی دیوانِ عشق

Friday, 6 January 2017

نکلتی کس طرح سے ہے جان مضطر دیکھتے جاؤ

نکلتی کس طرح سے ہے جانِ مضطر دیکھتے جاؤ
ہمارے پاس سے جاؤ تو پھِر کر دیکھتے جاؤ
نسیمِ نو بہاری کی طرح آئے ہو گلشن میں 
تماشاۓ گل و سرو و صنوبر دیکھتے جاؤ
جدھر جاتے ہو ہر گھر میں سے یہ آواز آتی ہے
مسیحا ہو جو بیماروں کو دم بھر دیکھتے جاؤ

چھپ کر رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا

چھپ کر رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا
اے صنم! لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیا
کوئی اندھا ہی تجھے ماہ کہے اے خورشید
فرق ہوتا نہیں انسان سے دن رات میں کیا
یار نے وعدۂ فردائے قیامت تو کِیا
شک ہے اے نالۂ دل تیری کرامات میں کیا

ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا

ہے جب سے دستِ یار میں ساغر شراب کا
کوڑی کا ہو گیا ہے کٹورا گلاب کا
صیاد نے تسلئ بلبل کے واسطے
کنجِ قفس میں حوض بھرا ہے گلاب کا
دریائے خوں کیا ہے تِری تیغ نے رواں
حاصل ہوا ہے رتبہ سروں کو، حباب کا

Wednesday, 4 January 2017

بلا اپنے لیے دانستہ ناداں مول لیتے ہیں

بلا اپنے لیے دانستہ ناداں مول لیتے ہیں
عبث جی بیچ کر الفت کو انساں مول لیتے ہیں
نہ پوچھ احوال بے درد اپنے بیمارِ محبت کا
زمیں اس کیلئے اب تو عزیزاں مول لیتے ہیں
میں اس گلشن کا بلبل ہوں، بہار آنے نہیں پاتی
کہ صیاد آن کر میرا گلستاں مول لیتے ہیں

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

توڑ کر تارِ نگہ کا سلسلہ جاتا رہا
خاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا
کون سے دن ہاتھ میں آیا مِرے دامانِ یار
کب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا
خارِ صحرا پر کسی نے تہمتِ دُزدی نہ دی
پاؤں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا

ہے نرالی کشش عشق جفا کار کی راہ

ہے نرالی کششِ عشق جفا کار کی راہ
چاہِ کنعاں میں ملی مصر کے بازار کی راہ
رہ نما یاد الہٰی کا ہوا عشقِ صنم
پہنچے ہم کعبۂ مقصود کو کہسار کی راہ
کثرتِ شوق نے از بسکہ کیا عرصہ تنگ
مردہ نکلا نہ مِرا کوچۂ دل دار کی راہ

Wednesday, 19 October 2016

اللہ ہووے بلبل ناشاد کی طرف

اللہ ہووے بلبلِ ناشاد کی طرف
گلچیں جو بولتا ہے تو صیاد کی طرف
برسوں سے قدِ یار کا مضموں نہیں بندھا
مدت ہوئی گئے نہیں شمشاد کی طرف
چلنے میں کی جو شوقِ شہادت نے رہبری
گردن جھکائی کوچۂ جلاد کی طرف

کوئی عشق میں مجھ سا افزوں نہ نکلا

کوئی عشق میں مجھ سا افزوں نہ نکلا
کبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چِیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا 
بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعر
کمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا