Friday, 6 January 2017

نکلتی کس طرح سے ہے جان مضطر دیکھتے جاؤ

نکلتی کس طرح سے ہے جانِ مضطر دیکھتے جاؤ
ہمارے پاس سے جاؤ تو پھِر کر دیکھتے جاؤ
نسیمِ نو بہاری کی طرح آئے ہو گلشن میں 
تماشاۓ گل و سرو و صنوبر دیکھتے جاؤ
جدھر جاتے ہو ہر گھر میں سے یہ آواز آتی ہے
مسیحا ہو جو بیماروں کو دم بھر دیکھتے جاؤ
قدم انداز سے باہر ہوئے جاتے ہیں صاحب کے
ستم رفتار میں کرتی ہے ٹھوکر دیکھتے جاؤ
ملیں وہ راہ میں اَب کی تو کہتا ہوں جو ہو سو ہو
دکھا دو گھر مجھے اپنا، مِرا گھر دیکھتے جاؤ
خرامِ ناز میں عاشق سے ہو اس کا اشارہ بھی
کچھ اپنی تیغِ ابرو کے بھی جوہر دیکھتے جاؤ
روش مستانہ چلتے ہو، قدم مستانہ پڑتے ہیں
خدا کے واسطے، بہرِ پیمبرﷺ، دیکھتے جاؤ
کوئی ان سے کہے منہ پھیر کر جو قتل کرتے ہو
تڑپتا ہے تمہارا کشتہ کیوں کر، دیکھتے جاؤ
نگاہِ لطف کا شائق ہے تحت وفوق کا عالم
کبھی نیچی نظر ہو، گاہ اوپر دیکھتے جاؤ
کبھی ہل جاتے ہیں ابرو، کبھی جنبش ہے مژگاں کو
دکھاتے ہو ہمیں شمشیر و خنجر، دیکھتے جاؤ
نقاب اک دن الٹ کے تم نے یہ منہ سے نہ فرمایا 
جمالِ آفتاب ذرہ پرور دیکھتے جاؤ
نہ پھیروں اُس نے منہ آتشؔ جو کچھ درپیش آ جائے
دکھاتا ہے جو آنکھوں کو مقدر دیکھتے جاؤ

حیدر علی آتش

No comments:

Post a Comment