Showing posts with label ن م راشد. Show all posts
Showing posts with label ن م راشد. Show all posts

Thursday, 23 March 2023

اے وطن اے جان تو نے

ملی ترانہ


 اے وطن، اے جان

تیری انگبیں بھی اور خاکستر بھی میں

میں نے یہ سیکھا ریاضی سے ادب بہتر بھی ہے برتر بھی ہے

خاک چھانی میں نے دانش گاہ کی

اور دانش گاہ میں بے دست و پا درویش حُسن و فہم کے جویا ملے

جن کو تھی میری طرح ہر دستگیری کی طلب

Sunday, 21 August 2022

مجھے وداع کر اے میری ذات مجھے وداع کر

 مجھے وداع کر


مجھے وِداع کر

اے میری ذات، مجھے وداع کر

وہ لوگ کیا کہیں گے، میری ذات

لوگ جو ہزار سال سے

مِرے کلام کو ترس گئے

Sunday, 20 December 2020

ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا

 ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا

مگر جو تُو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا

حیاتِ شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیں

خدا کا شکر، ہمیں نالۂ رسا نہ ملا

ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہ

یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا

Wednesday, 11 November 2020

گناہ

 گناہ


آج پھر آ ہی گیا

آج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیا

دی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے

ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھا

خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار

پارہ پارہ تھے مری روح کے تار

رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن

 رقص کی رات


رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن

اس لیے بن نہ سکی راہِ تمنا کی دلیل

کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ

جس سے تنویر مرے سینۂ غمناک میں ہے

ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے

Monday, 2 November 2020

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

 چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

کئی لذتوں کا ستم لیے

جو سمندروں کے فسوں میں ہیں

مرا ذہن ہے وہ صنم لیے

وہی ریگزار ہے سامنے

وہی ریگزار کہ جس میں عشق کے آئینے

Saturday, 17 October 2020

نارسائی درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے

 نارسائی


درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے

کہ ان کی جڑیں کھوکھلی ہو چلی ہیں

مگر ان میں ہر شاخ بزدل ہے

یا مبتلا خود فریبی میں شاید

کہ اِن کِرم خوردہ جڑوں سے

وہ اپنے لیے تازہ نم ڈھونڈتی ہے

Thursday, 15 October 2020

کتنے دریا اس نگر میں بہہ گئے

 کتنے دریا اس نگر میں بہہ گئے

دل کے صحرا خشک پھر بھی رہ گئے

آج تک گم سم کھڑی ہیں شہر میں

جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے

ایک تو ہے بات بھی سہتا نہیں

ایک ہم ہیں تیرا غم بھی سہہ گئے

Wednesday, 7 October 2020

اس کا چہرہ اس کے خد و خال یاد آتے نہیں

 انتقام


اس کا چہرہ، اس کے خدوخال یاد آتے نہیں

اک شبستاں یاد ہے

اک برہنہ جسم آتشداں کے پاس

فرش پر قالین، قالینوں کی سیج

دھات اور پتھر کے بت

گوشۂ دیوار میں ہنستے ہوئے

مسکراہٹیں ہیں وہ کرم

 مسکراہٹیں


مسکراہٹیں ہیں وہ کرم کہ جس کا ریشہ

استوارِ ازل میں ہے

ابد بھی جس کے ایک ایک پل میں ہے

کبھی ہیں سہوِ گفتگو

کبھی اشارۂ خرد، کبھی شرارۂ جنوں

Tuesday, 15 September 2020

مری محبت جواں رہے گی

مِری محبت جواں رہے گی

مثالِ خورشید و ماہ و انجم مِری محبت جواں رہے گی
عروسِ فطرت کے حسنِ شاداب کی طرح جاوداں رہے گی
شعاعِ امید بن کے ہر وقت روح پر ضو فشاں رہے گی
شگفتہ و شادماں کرے گی، شگفتہ و شادماں رہے گی
مِری محبت جواں رہے گی

مرے محبوب جانے دے مجھے اس پار

خواب کی بستی

مِرے محبوب، جانے دے، مجھے اُس پار جانے دے
اکیلا جاؤں گا اور تیر کے مانند جاؤں گا
کبھی اس ساحلِ ویران پر میں پھر نہ آؤں گا
گوارا کر خدارا! اس قدر ایثار جانے دے
نہ کر اب ساتھ جانے کے لیے اصرار جانے دے

یہ شب ہائے گزشتہ کے جنوں انگیز افسانے

شاعر کا ماضی

یہ شب ہائے گزشتہ کے جنوں انگیز افسانے
یہ آوارہ پریشاں زمزمے، سازِ جوانی کے
یہ میری عشرتِ برباد کی بے باک تصویریں
یہ آئینے مِرے شوریدہ آغازِ جوانی کے
یہ اک رنگیں غزل لیلیٰ کی زلفوں کی ستائش میں
یہ تعریفیں سلیمیٰ کی فسوں پرور نگاہوں کی

Wednesday, 20 May 2020

اجل ان سے مل

تعارف

اجل! ان سے مل
کہ یہ سادہ دل
نہ اہلِ صلوٰۃ اور نہ اہلِ شراب
نہ اہلِ ادب اور نہ اہلِ حساب
نہ اہلِ کتاب
نہ اہلِ کتاب اور نہ اہلِ مشین

جاگ اے شمع شبستان وصال

دریچے کے قریب

جاگ اے شمعِ شبستانِ وصال
محفلِ خواب کے اس فرشِ طرب ناک سے جاگ
لذتِ شب سے تِرا جسم ابھی چُور سہی
آ مِری جان! مِرے پاس دریچے کے قریب
دیکھ کس پیار سے انوارِ سحر چومتے ہیں

حسرت انتظار یار نہ پوچھ

حسرتِ انتظارِ یار نہ پوچھ
ہائے وہ شدتِ انتظار نہ پوچھ 
رنگِ گلشن دمِ بہار نہ پوچھ
وحشتِ قلبِ بے قرار نہ پوچھ
صدمۂ عندلیبِ زار نہ پوچھ
تلخ انجامئ بہار نہ پوچھ

Tuesday, 30 October 2018

ریگ دیروز ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

ریگِ دیروز

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں 
وقت کے طول المناک کے پروردہ ہیں 
ایک تاریک ازل نور ابد سے خالی 
ہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا 
اپنی تہذیب کی پاکوبی کا حاصل پایا 
ہم محبت کے نہاں خانوں میں بسنے والے 

زندگی اک پیرہ زن

زندگی اک پِیرہ زن

زندگی اک پیرہ زن
جمع کرتی ہے گلی کوچوں میں روز و شب پرانی دھجیاں
تیز، غم انگیز، دیوانہ ہنسی سے خندہ زن
بال بکھرے، دانت میلے، پیرھن
دھجیوں کا ایک سونا اور نا پیدا کراں، تاریک بن

بوئے آدم زاد

بوئے آدم زاد

بوئے آدم زاد آئی ہے کہاں سے ناگہاں؟
دیو اس جنگلے کے سناٹے میں ہیں
ہو گئے زنجیر پا خود ان کے قدموں کے نشاں
یہ وہی جنگل ہے جس کے مرغزاروں میں سدا
چاندنی راتوں میں وہ بے خوف و غم رقصاں رہے

کونسی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم

کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

لب بیاباں، بوسے بے جاں
کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟
جسم کی یہ کارگاہیں
جن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم
نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہم سائے