ملی ترانہ
اے وطن، اے جان
تیری انگبیں بھی اور خاکستر بھی میں
میں نے یہ سیکھا ریاضی سے ادب بہتر بھی ہے برتر بھی ہے
خاک چھانی میں نے دانش گاہ کی
اور دانش گاہ میں بے دست و پا درویش حُسن و فہم کے جویا ملے
جن کو تھی میری طرح ہر دستگیری کی طلب
ملی ترانہ
اے وطن، اے جان
تیری انگبیں بھی اور خاکستر بھی میں
میں نے یہ سیکھا ریاضی سے ادب بہتر بھی ہے برتر بھی ہے
خاک چھانی میں نے دانش گاہ کی
اور دانش گاہ میں بے دست و پا درویش حُسن و فہم کے جویا ملے
جن کو تھی میری طرح ہر دستگیری کی طلب
مجھے وداع کر
مجھے وِداع کر
اے میری ذات، مجھے وداع کر
وہ لوگ کیا کہیں گے، میری ذات
لوگ جو ہزار سال سے
مِرے کلام کو ترس گئے
ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا
مگر جو تُو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا
حیاتِ شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیں
خدا کا شکر، ہمیں نالۂ رسا نہ ملا
ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہ
یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا
گناہ
آج پھر آ ہی گیا
آج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیا
دی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے
ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھا
خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار
پارہ پارہ تھے مری روح کے تار
رقص کی رات
رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن
اس لیے بن نہ سکی راہِ تمنا کی دلیل
کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ
جس سے تنویر مرے سینۂ غمناک میں ہے
ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے
چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے
کئی لذتوں کا ستم لیے
جو سمندروں کے فسوں میں ہیں
مرا ذہن ہے وہ صنم لیے
وہی ریگزار ہے سامنے
وہی ریگزار کہ جس میں عشق کے آئینے
نارسائی
درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے
کہ ان کی جڑیں کھوکھلی ہو چلی ہیں
مگر ان میں ہر شاخ بزدل ہے
یا مبتلا خود فریبی میں شاید
کہ اِن کِرم خوردہ جڑوں سے
وہ اپنے لیے تازہ نم ڈھونڈتی ہے
کتنے دریا اس نگر میں بہہ گئے
دل کے صحرا خشک پھر بھی رہ گئے
آج تک گم سم کھڑی ہیں شہر میں
جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے
ایک تو ہے بات بھی سہتا نہیں
ایک ہم ہیں تیرا غم بھی سہہ گئے
انتقام
اس کا چہرہ، اس کے خدوخال یاد آتے نہیں
اک شبستاں یاد ہے
اک برہنہ جسم آتشداں کے پاس
فرش پر قالین، قالینوں کی سیج
دھات اور پتھر کے بت
گوشۂ دیوار میں ہنستے ہوئے
مسکراہٹیں
مسکراہٹیں ہیں وہ کرم کہ جس کا ریشہ
استوارِ ازل میں ہے
ابد بھی جس کے ایک ایک پل میں ہے
کبھی ہیں سہوِ گفتگو
کبھی اشارۂ خرد، کبھی شرارۂ جنوں