ہر اک سمت ظلم و ستم دیکھتے ہیں
ہم انسانیت کے الم دیکھتے ہیں
جو پرچم اٹھائے ہیں انسانیت کا
ہم ان میں بھی انسان کم دیکھتے ہیں
سسکتی ہے انسانیت آج پھر بھی
کسی کو کسی کا نہ ہم دیکھتے ہیں
ہر اک سمت ظلم و ستم دیکھتے ہیں
ہم انسانیت کے الم دیکھتے ہیں
جو پرچم اٹھائے ہیں انسانیت کا
ہم ان میں بھی انسان کم دیکھتے ہیں
سسکتی ہے انسانیت آج پھر بھی
کسی کو کسی کا نہ ہم دیکھتے ہیں
ہماری زبان اردو
اردو ہے جو زبان وہ شیریں زبان ہے
تہذیب کی ہے آن تمدن کی شان ہے
اردو زبان ساری زبانوں کی جان ہے
سب بولیاں زمیں تو یہ آسمان ہے
اپنائے جو دوستو! اردو زبان کو
روکے گا پھر نہ کوئی تمہاری اڑان کو
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
نام میں تیرے دوا موجود ہے
ذکر میں تیرے شفا موجود ہے
دیکھ کر حرکت میں تیری کائنات
عقل بولی؛ کہ خدا موجود ہے
حکم سے مالک تیرے زندہ ہوں میں
تیری مرضی سے ہوا موجود ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عشقِ خدا سے دل مِرا سرشار ہو گیا
کردارِ مصطفیؐ سے مجھے پیار ہو گیا
ایمان گر خدا پہ ہو، اعمال نیک ہوں
بے شک وہ شخص خلد کا حقدار ہو گیا
ہونے لگے ہیں لوگ منافق پہ مہرباں
مومن ہر ایک سمت سے لاچار ہو گیا
انسانوں کے عیب چھپانا سب کے بس کی بات نہیں
عیب چھپا کر خیر بتانا سب کے بس کی بات نہیں
غیر کی نکتہ چینی کرتے لوگ دکھائی دیتے ہیں
خود پر اپنی انگلی اٹھانا سب کے بس کی بات نہیں
جھوٹ سے رشتہ جوڑنے والے لاکھوں آدم خور یہاں
سچا انسان بن کے دکھانا سب کے بس کی بات نہیں
لب پہ میرے جو حق بیانی ہے
بس یہ مولا کی مہربانی ہے
یہ محمدؐ نے ہم سے فرمایا
دیکھو، دنیا سرائے فانی ہے
حرصِ دنیا سراب ہے لوگو
نہ بجھے پیاس یہ وہ پانی ہے