Showing posts with label اقبال عظیم. Show all posts
Showing posts with label اقبال عظیم. Show all posts

Tuesday, 9 January 2024

کرتے ہیں عرض حال زبان قلم سے ہم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کرتے ہیں عرضِ حال زبانِ قلم سے ہم

یوں بھیک مانگتے ہیں امامِ اُمم سے ہم

دیکھیں ہماری بات کا ملتا ہے کیا جواب

بیٹھے ہیں لَو لگائے نگاہِ کرم سے ہم

دربارِ مصطفیٰﷺ میں ضروری ہے احتیاط

افسانہ کہہ رہے ہیں فقط چشمِ نم سے ہم

Tuesday, 19 September 2023

تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی

 تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی

تو یاد رہے ہم سے بھی ویسی ہی سنو گی

یہ ہمسفری مصلحتِ وقت تھی، ورنہ

یہ تو ہمیں معلوم تھا تم ساتھ نہ دوگی

یہ تازہ ستم ہم کو گوارہ تو نہیں ہے

ہم یہ بھی سہہ لیتے ہیں کیا یاد کرو گی

Tuesday, 1 August 2023

نعت میں کیسے کہوں ان کی رضا سے پہلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نعت میں کیسے کہوں انؐ کی رضا سے پہلے

میرے ماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے

نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیں 

جلوۂ صاحب لولاک لما سے پہلے

اُنؐ کا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحر

بھیک ملتی ہے فقیروں کو صدا سے پہلے

Wednesday, 7 June 2023

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں لب کشا نہیں ہوں اور محوِ التجا ہوں

میں محفلِ حرم کے آداب جانتا ہوں

کوئی تو آنکھ والا گزرے گا اس طرف سے

طیبہ کے راستے میں، میں منتظر کھڑا ہوں

ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہو گا

دیکھے بغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں

Monday, 5 June 2023

بسا ہوا ہے نبی کا دیار آنکھوں میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بسا ہوا ہے نبیﷺ کا دیار آنکھوں میں

سجائے بیٹھا ہوں اک جلوہ زار آنکھوں میں

جو دن مدینے میں گزرے ہیں اُنؐ کا کیا کہنا

رچے ہوئے ہیں وہ لیل و نہار آنکھوں میں

دیارِ پاک کا ہر منظر حسین و جمیل

رہے گا تا بہ قضا یادگار آنکھوں میں

Friday, 12 May 2023

مجھ کو بھی کاش جلوۂ خضریٰ دکھائی دے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


مجھ کو بھی کاش جلوۂ خضریٰ دکھائی دے

بے نور آنکھ سے بھی اجالا دکھائی دے

جاگوں تو صرف ان کے خیالوں میں گم رہوں

سو جاوٴں تو فقط رخِ آقاﷺ دکھائی دے

وہ شہر جس کا نام تو کعبہ نہیں مگر

گلیوں میں جس کی رونقِ کعبہ دکھائی دے

Tuesday, 2 May 2023

میں تو خود ان کے درکا گدا ہوں اپنےآقا کو میں نذر کیا دوں

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


میں تو خود انﷺ کے درکا گدا ہوں اپنےآقاﷺ کو میں نذر کیا دوں

اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں

آنے والی ہے انﷺ کی سواری، پھول نعتوں کے گھر گھر سجا دوں

میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے، اپنی پلکوں پہ شمعیں جلا دوں

میری جھولی میں کچھ بھی نہیں ہے، میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے

اپنی آنکھوں کی چاندی بہا دوں، اپنے ماتھے کا سونا لٹا دوں

Saturday, 15 April 2023

حال دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حالِ دل کس کو سنائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے

اور دَر پہ کس کے جائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے

میں غلام مصطفٰیﷺ ہوں یہ مِری پہچان ہے

غم مجھے کیوں کر ستائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے

شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن

کون دیکھے گا خطائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے

کھلا ہے سبھی کے لیے باب رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی، قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی

میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی

وہ دربار سچ مچ مِرے سامنے تھا، ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی

میں اک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا تو تھی دوسرے ہاتھ میں سبز جالی

دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے تو کیسے؟ نہ یہ ہاتھ خالی نہ وہ ہاتھ خالی

Friday, 16 September 2022

ہوں میسر مدینے کی گلیاں اگر آنکھ کافی نہیں ہے نظر چاہیے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے

ہوں میسر مدینے کی گلیاں اگر، آنکھ کافی نہیں ہے نظر چاہیے

انؐ کی محفل کے آداب کچھ اور ہیں، لب کشائی کی جرأت مناسب نہیں

انﷺ کی سرکار میں التجا کے لیے، جُنبشِ لب نہیں، چشمِ تر چاہیے

اپنی رُودادِ غم میں سناؤں کسے، میرے دکھ کو کوئی اور سمجھے گا کیا

جس کی خاکِ قدم بھی ہے خاکِ شفا، میرے زخموں کو وہ چارہ گر چاہیے

Saturday, 10 September 2022

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر، ہم بھی بے بس نہیں، بے سہارا نہیں

خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے

ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے،۔ اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے

ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے

جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا،۔۔۔ بندگی کا قرینہ بدل جائے گا

سر جُھکانے کی فُرصت ملے گی کِسے، خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے

Sunday, 21 August 2022

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں سو جاؤں یا مصطفیٰؐ کہتے کہتے

کھلے آنکھ صلِ علیٰؐ کہتے کہتے

ستم پہ ستم سہہ گئے دشمنوں کے

حبیبِﷺ خدا، مرحبا! کہتے کہتے

گزرتے تھے کانٹے بھرے راستوں سے

رسولِﷺ خدا، مرحبا! کہتے کہتے

Saturday, 13 August 2022

جہاں روضۂ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جہاں روضۂ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے​

کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے​

محمدﷺ کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو کہ وہ صاحب قاب قوسین ٹھہرے​

بشر کی سرِ عرش مہماں نوازی، یہ عظمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے​

جو عاصی کو دامن میں اپنی چھپا لے، جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے​

اسےاور کیا نام دے گا زمانہ، وہ رحمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے

Tuesday, 26 April 2022

مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

 مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

اس زندگی کو ہم نے بہت کچھ دیا بھی ہے

محسوس ہو رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں

شاید کہیں قریب کوئی دوسرا بھی ہے

قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں

اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

Wednesday, 9 February 2022

شکست ظرف کو پندار رندانہ نہیں کہتے

شکستِ ظرف کو پندارِ رندانہ نہیں کہتے

جو مانگے سے ملے ہم اس کو پیمانہ نہیں کہتے

جہاں ساقی کے پائے ناز پر سجدہ ضروری ہو

وہ بت خانہ ہے، اس کو رند میخانہ نہیں کہتے

جنوں کی شرطِ اوّل ضبط ہے اور ضبط مشکل ہے

جو دامن چاک کر لے اس کو دیوانہ نہیں کہتے

Wednesday, 8 December 2021

مجھ کو حیرت ہے کہ میں کیسے حرم تک پہنچا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مجھ کو حیرت ہے کہ میں کیسے حرم تک پہنچا

مجھ سا ناچیز درِ شاہِ اممﷺ تک پہنچا

ماہ و انجم بھی ہیں جس نقشِ قدم سے روشن

اے خوشا آج میں اس نقشِ قدم تک پہنچا

کتنے خوش بخت ہیں ہم لوگ کہ وہ ماہِ تمام

اس اندھیرے میں ہمیں ڈھونڈ کے ہم تک پہنچا

Saturday, 4 December 2021

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

از افق تا بہ افق ایک ہی جلوہ دیکھوں

جس طرف آنکھ اٹھے روضۂ والا دیکھوں

عاقبت میری سنور جائے جو طیبہ دیکھوں

دستِ امروز میں آئینۂ فردا دیکھوں

Wednesday, 11 November 2020

خطا معاف یہ کچھ اور ہے وفا تو نہیں

خطا معاف یہ کچھ اور ہے وفا تو نہیں

کہیں یہ ترکِ تعلق کی ابتدا تو نہیں

خطا تو جب ہو کہ ہم شکوہ جفا بھی کریں

کسی کو چاہتے رہنا کوئی خطا تو نہیں

یہ بات الگ ہے کہ آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے

مگر زباں سے کبھی ہم نے کچھ کہا تو نہیں

Sunday, 4 October 2020

ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

 ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

وہ خوش نصیب ہیں جو تِری رہگزر میں ہیں

تاکید ضبط عہد وفا اذن زندگی

کتنے پیام اک نگہِ مختصر میں ہیں

ماضی شریک حال ہے کوشش کے باوجود

دھندلے سے کچھ نقوش ابھی تک نظر میں ہیں

Thursday, 24 September 2020

زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں

 زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں

اب تو جی ڈرتا ہے خود اپنے ہی میخانے میں

جامِ جم سے نگہِ توبہ شکن تک، ساقی

پوری روداد ہے ٹوٹے ہوئے پیمانے میں

سارا ماضی میری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے

میں نے کچھ شہر بسا رکھے ہیں ویرانے میں