عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کرتے ہیں عرضِ حال زبانِ قلم سے ہم
یوں بھیک مانگتے ہیں امامِ اُمم سے ہم
دیکھیں ہماری بات کا ملتا ہے کیا جواب
بیٹھے ہیں لَو لگائے نگاہِ کرم سے ہم
دربارِ مصطفیٰﷺ میں ضروری ہے احتیاط
افسانہ کہہ رہے ہیں فقط چشمِ نم سے ہم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کرتے ہیں عرضِ حال زبانِ قلم سے ہم
یوں بھیک مانگتے ہیں امامِ اُمم سے ہم
دیکھیں ہماری بات کا ملتا ہے کیا جواب
بیٹھے ہیں لَو لگائے نگاہِ کرم سے ہم
دربارِ مصطفیٰﷺ میں ضروری ہے احتیاط
افسانہ کہہ رہے ہیں فقط چشمِ نم سے ہم
تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی
تو یاد رہے ہم سے بھی ویسی ہی سنو گی
یہ ہمسفری مصلحتِ وقت تھی، ورنہ
یہ تو ہمیں معلوم تھا تم ساتھ نہ دوگی
یہ تازہ ستم ہم کو گوارہ تو نہیں ہے
ہم یہ بھی سہہ لیتے ہیں کیا یاد کرو گی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت میں کیسے کہوں انؐ کی رضا سے پہلے
میرے ماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے
نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیں
جلوۂ صاحب لولاک لما سے پہلے
اُنؐ کا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحر
بھیک ملتی ہے فقیروں کو صدا سے پہلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں لب کشا نہیں ہوں اور محوِ التجا ہوں
میں محفلِ حرم کے آداب جانتا ہوں
کوئی تو آنکھ والا گزرے گا اس طرف سے
طیبہ کے راستے میں، میں منتظر کھڑا ہوں
ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہو گا
دیکھے بغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بسا ہوا ہے نبیﷺ کا دیار آنکھوں میں
سجائے بیٹھا ہوں اک جلوہ زار آنکھوں میں
جو دن مدینے میں گزرے ہیں اُنؐ کا کیا کہنا
رچے ہوئے ہیں وہ لیل و نہار آنکھوں میں
دیارِ پاک کا ہر منظر حسین و جمیل
رہے گا تا بہ قضا یادگار آنکھوں میں
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
مجھ کو بھی کاش جلوۂ خضریٰ دکھائی دے
بے نور آنکھ سے بھی اجالا دکھائی دے
جاگوں تو صرف ان کے خیالوں میں گم رہوں
سو جاوٴں تو فقط رخِ آقاﷺ دکھائی دے
وہ شہر جس کا نام تو کعبہ نہیں مگر
گلیوں میں جس کی رونقِ کعبہ دکھائی دے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
میں تو خود انﷺ کے درکا گدا ہوں اپنےآقاﷺ کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
آنے والی ہے انﷺ کی سواری، پھول نعتوں کے گھر گھر سجا دوں
میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے، اپنی پلکوں پہ شمعیں جلا دوں
میری جھولی میں کچھ بھی نہیں ہے، میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے
اپنی آنکھوں کی چاندی بہا دوں، اپنے ماتھے کا سونا لٹا دوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حالِ دل کس کو سنائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے
اور دَر پہ کس کے جائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے
میں غلام مصطفٰیﷺ ہوں یہ مِری پہچان ہے
غم مجھے کیوں کر ستائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے
شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن
کون دیکھے گا خطائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی
مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی، قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی
میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی
وہ دربار سچ مچ مِرے سامنے تھا، ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی
میں اک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا تو تھی دوسرے ہاتھ میں سبز جالی
دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے تو کیسے؟ نہ یہ ہاتھ خالی نہ وہ ہاتھ خالی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے
ہوں میسر مدینے کی گلیاں اگر، آنکھ کافی نہیں ہے نظر چاہیے
انؐ کی محفل کے آداب کچھ اور ہیں، لب کشائی کی جرأت مناسب نہیں
انﷺ کی سرکار میں التجا کے لیے، جُنبشِ لب نہیں، چشمِ تر چاہیے
اپنی رُودادِ غم میں سناؤں کسے، میرے دکھ کو کوئی اور سمجھے گا کیا
جس کی خاکِ قدم بھی ہے خاکِ شفا، میرے زخموں کو وہ چارہ گر چاہیے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر، ہم بھی بے بس نہیں، بے سہارا نہیں
خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے،۔ اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے
جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا،۔۔۔ بندگی کا قرینہ بدل جائے گا
سر جُھکانے کی فُرصت ملے گی کِسے، خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں سو جاؤں یا مصطفیٰؐ کہتے کہتے
کھلے آنکھ صلِ علیٰؐ کہتے کہتے
ستم پہ ستم سہہ گئے دشمنوں کے
حبیبِﷺ خدا، مرحبا! کہتے کہتے
گزرتے تھے کانٹے بھرے راستوں سے
رسولِﷺ خدا، مرحبا! کہتے کہتے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جہاں روضۂ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
محمدﷺ کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو کہ وہ صاحب قاب قوسین ٹھہرے
بشر کی سرِ عرش مہماں نوازی، یہ عظمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
جو عاصی کو دامن میں اپنی چھپا لے، جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے
اسےاور کیا نام دے گا زمانہ، وہ رحمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے
اس زندگی کو ہم نے بہت کچھ دیا بھی ہے
محسوس ہو رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
شاید کہیں قریب کوئی دوسرا بھی ہے
قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں
اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے
شکستِ ظرف کو پندارِ رندانہ نہیں کہتے
جو مانگے سے ملے ہم اس کو پیمانہ نہیں کہتے
جہاں ساقی کے پائے ناز پر سجدہ ضروری ہو
وہ بت خانہ ہے، اس کو رند میخانہ نہیں کہتے
جنوں کی شرطِ اوّل ضبط ہے اور ضبط مشکل ہے
جو دامن چاک کر لے اس کو دیوانہ نہیں کہتے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مجھ کو حیرت ہے کہ میں کیسے حرم تک پہنچا
مجھ سا ناچیز درِ شاہِ اممﷺ تک پہنچا
ماہ و انجم بھی ہیں جس نقشِ قدم سے روشن
اے خوشا آج میں اس نقشِ قدم تک پہنچا
کتنے خوش بخت ہیں ہم لوگ کہ وہ ماہِ تمام
اس اندھیرے میں ہمیں ڈھونڈ کے ہم تک پہنچا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں
اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں
از افق تا بہ افق ایک ہی جلوہ دیکھوں
جس طرف آنکھ اٹھے روضۂ والا دیکھوں
عاقبت میری سنور جائے جو طیبہ دیکھوں
دستِ امروز میں آئینۂ فردا دیکھوں
خطا معاف یہ کچھ اور ہے وفا تو نہیں
کہیں یہ ترکِ تعلق کی ابتدا تو نہیں
خطا تو جب ہو کہ ہم شکوہ جفا بھی کریں
کسی کو چاہتے رہنا کوئی خطا تو نہیں
یہ بات الگ ہے کہ آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے
مگر زباں سے کبھی ہم نے کچھ کہا تو نہیں
ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں
وہ خوش نصیب ہیں جو تِری رہگزر میں ہیں
تاکید ضبط عہد وفا اذن زندگی
کتنے پیام اک نگہِ مختصر میں ہیں
ماضی شریک حال ہے کوشش کے باوجود
دھندلے سے کچھ نقوش ابھی تک نظر میں ہیں
زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں
اب تو جی ڈرتا ہے خود اپنے ہی میخانے میں
جامِ جم سے نگہِ توبہ شکن تک، ساقی
پوری روداد ہے ٹوٹے ہوئے پیمانے میں
سارا ماضی میری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے
میں نے کچھ شہر بسا رکھے ہیں ویرانے میں