خطا معاف یہ کچھ اور ہے وفا تو نہیں
کہیں یہ ترکِ تعلق کی ابتدا تو نہیں
خطا تو جب ہو کہ ہم شکوہ جفا بھی کریں
کسی کو چاہتے رہنا کوئی خطا تو نہیں
یہ بات الگ ہے کہ آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے
مگر زباں سے کبھی ہم نے کچھ کہا تو نہیں
نصیب کیسے بدل دے کوئی سفینے کا
جو ناخدا ہے وہ سب کچھ سہی خدا تو نہیں
یہ کون بے حس و حرکت پڑا ہے ساحل پر
چلو قریب سے دیکھیں یہ ناخدا تو نہیں
شیوخ شہر کو تم دیکھ کر پلٹ آئے
کسی سے پوچھ تو لیتے وہ میکدہ تو نہیں
نہ جانے قافلے والے خفا ہیں کیوں مجھ سے
میں صرف ایک مسافر ہوں راہنما تو نہیں
حضور آپ اقبال کو غلط سمجھے
وہ پارسا ہے مگر آدمی برا تو نہیں
اقبال عظیم
No comments:
Post a Comment