Wednesday, 11 November 2020

اس لیے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے

 اس لیے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے

خواب کی سمت جاتی سڑک زیرِِ تعمیر ہے

اتنے پھول اک جگہ دیکھ کر سب کا جی خوش ہوا

پتیاں جھڑنے پر کوئی کوئی ہی دلگیر ہے

ہنستی دنیا ملی آنکھ کھلتے ہی روتی ہوئی

یہ مرا خواب تھا، اور یہ اس کی تعبیر ہے

رحم کھاتی ہوئی کتنی نظروں کا ہے سامنا

میری حالت ہی شاید مرے غم کی تشہیر ہے

کیسا کیسا ہے جلوہ مرے سامنے اس گھڑی

پھر بھی چشمِ تصور میں تیری ہی تصویر ہے


سید فضل گیلانی

No comments:

Post a Comment