اس لیے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے
خواب کی سمت جاتی سڑک زیرِِ تعمیر ہے
اتنے پھول اک جگہ دیکھ کر سب کا جی خوش ہوا
پتیاں جھڑنے پر کوئی کوئی ہی دلگیر ہے
ہنستی دنیا ملی آنکھ کھلتے ہی روتی ہوئی
یہ مرا خواب تھا، اور یہ اس کی تعبیر ہے
رحم کھاتی ہوئی کتنی نظروں کا ہے سامنا
میری حالت ہی شاید مرے غم کی تشہیر ہے
کیسا کیسا ہے جلوہ مرے سامنے اس گھڑی
پھر بھی چشمِ تصور میں تیری ہی تصویر ہے
سید فضل گیلانی
No comments:
Post a Comment