جس کا دل جامِ فنا سے ہر گھڑی سرشار ہے
اس کی صورت ہے کہاں وہ صورتِ دلدار ہے
ایسی تنہائی مِلی راہِ حقیقت میں ہمیں
یاس و حسرت کے سوا کوئی نہیں غمخوار ہے
ہم تو ہیں دِیر و حرم میں ایک صُورت دیکھتے
تم میں اے شیخ و برہمن! کس لیے تکرار ہے
کیوں کیا ہے تُو نے میخانے کے دروازے کو بند
آج کیا آیا نہیں ساقی کوئی میخوار ہے
سر کو نہ کٹواتا گر رمزِ فنا کو جانتا
کب کمالِ عشق میں منصور تُو ہوشیار ہے
جس کو آزادی ملی ہے عشق میں پھر وہ مدام
کعبہ و بُت خانہ میں پھرتا قلندر وار ہے
قُم باِذنی شمسِ دِیں کا حق ہے کہنا اے اسد
غین جب گُم ہو گئی تب عین کا اظہار ہے
اسد چشتی
سید تصدق علی اسد
No comments:
Post a Comment