عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چلنا کہاں تھا سہل رہِ مستقیم پر
ماتھے سے خون گرتا تھا پائے کریم پر
گریہ گزار چشمِ مقدس کے آفریں
ہجرت کی شب امین تھی مالِ غنیم پر
سینے پہ ہاتھ، پیٹ پہ پتھر بندھے ہوئے
خندق میں دوہرا بوجھ پڑا تھا رحیم پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چلنا کہاں تھا سہل رہِ مستقیم پر
ماتھے سے خون گرتا تھا پائے کریم پر
گریہ گزار چشمِ مقدس کے آفریں
ہجرت کی شب امین تھی مالِ غنیم پر
سینے پہ ہاتھ، پیٹ پہ پتھر بندھے ہوئے
خندق میں دوہرا بوجھ پڑا تھا رحیم پر
جملہ اعداد سے، نے حرف مِلانے سے کُھلا
حجلۂ عِلم تِرے غار میں آنے سے کھلا
رات کے نصف کو ہم سینۂ شب جانتے ہیں
شب کا سینہ تِرے قرآن سنانے سے کھلا
ہم تو گِنتی ہی گِنے جانے کے دھوکے میں رہے
حُسنِ ترتیب تِرے بعد میں آنے سے کھلا
آج نظر انداز ہوئے تو بات ہے کیا حیرانی کی
آیت جیسے لوگ ملے اور ہم نے روگردانی کی
کتنے روپ کی دھوپ ہمارے سینے پر لہرائی تھی
ہم نے چادر کھینچ لی خود پر، ہم نے تن آسانی کی
کیا کرنا تھا حسنِ یوسف، اور زلیخا کیا بننا تھا
ہم نے دونوں لطف اٹھائے، ہم نے قصہ خوانی کی
مجھے دو رنگ بھرنے کی اجازت، میں بناتا ہوں
جہاں بنتی نہیں ہے کوئی صورت، میں بناتا ہوں
تمہیں تو ٹھیک سے برباد کرنا بھی نہیں آتا
چلو پیچھے ہٹو، اپنی یہ حالت میں بناتا ہوں
تعلق میں کوئی رخنہ بنانا سخت جانی ہے
تِرے ہاتھوں کی نرماہٹ سلامت، میں بناتا ہوں
یہاں پہ اشک، وہاں پر صدف شمار ہوا
یہ ہجر پھیلا تو دونوں طرف شمار ہوا
مِرے مکان پہ اڑتا تھا فاختاؤں کا غول
چھڑی جو جنگ تو پہلا ہدف شمار ہوا
بس ایک شام تِرے لمس نے بھرے مِرے ہاتھ
تمام عمر ستارہ بکف شمار ہوا
ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی
دیوارِ خواب نیند نے تِرچھی اٹھائی تھی
ردِ دعا کا نصف اثاثہ تمہارے نام
تم نے بھی میرے ساتھ ہتھیلی اٹھائی تھی
ہاتھوں کو دل نے خون کی ترسیل روک دی
میں نے تمہاری یاد پہ انگلی اٹھائی تھی