Showing posts with label شبیر حسن. Show all posts
Showing posts with label شبیر حسن. Show all posts

Sunday, 9 June 2024

چلنا کہاں تھا سہل رہ مستقیم پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چلنا کہاں تھا سہل رہِ مستقیم پر

ماتھے سے خون گرتا تھا پائے کریم پر

گریہ گزار چشمِ مقدس کے آفریں

ہجرت کی شب امین تھی مالِ غنیم پر

سینے پہ ہاتھ، پیٹ پہ پتھر بندھے ہوئے

خندق میں دوہرا بوجھ پڑا تھا رحیم پر

Tuesday, 6 July 2021

جملہ اعداد سے نے حرف ملانے سے کھلا

 جملہ اعداد سے، نے حرف مِلانے سے کُھلا 

حجلۂ عِلم تِرے غار میں آنے سے کھلا 

رات کے نصف کو ہم سینۂ شب جانتے ہیں 

شب کا سینہ تِرے قرآن سنانے سے کھلا

ہم تو گِنتی ہی گِنے جانے کے دھوکے میں رہے 

حُسنِ ترتیب تِرے بعد میں آنے سے کھلا

Friday, 2 July 2021

آج نظر انداز ہوئے تو بات ہے کیا حیرانی کی

آج نظر انداز ہوئے تو بات ہے کیا حیرانی کی

آیت جیسے لوگ ملے اور ہم نے روگردانی کی

کتنے روپ کی دھوپ ہمارے سینے پر لہرائی تھی

ہم نے چادر کھینچ لی خود پر، ہم نے تن آسانی کی

کیا کرنا تھا حسنِ یوسف، اور زلیخا کیا بننا تھا

ہم نے دونوں لطف اٹھائے، ہم نے قصہ خوانی کی

Thursday, 1 July 2021

مجھے دو رنگ بھرنے کی اجازت میں بناتا ہوں

 مجھے دو رنگ بھرنے کی اجازت، میں بناتا ہوں

جہاں بنتی نہیں ہے کوئی صورت، میں بناتا ہوں

تمہیں تو ٹھیک سے برباد کرنا بھی نہیں آتا

چلو پیچھے ہٹو، اپنی یہ حالت میں بناتا ہوں

تعلق میں کوئی رخنہ بنانا سخت جانی ہے

تِرے ہاتھوں کی نرماہٹ سلامت، میں بناتا ہوں

Wednesday, 3 March 2021

یہاں پہ اشک وہاں پر صدف شمار ہوا

 یہاں پہ اشک، وہاں پر صدف شمار ہوا

یہ ہجر پھیلا تو دونوں طرف شمار ہوا

مِرے مکان پہ اڑتا تھا فاختاؤں کا غول

چھڑی جو جنگ تو پہلا ہدف شمار ہوا

بس ایک شام تِرے لمس نے بھرے مِرے ہاتھ

تمام عمر ستارہ بکف شمار ہوا

Sunday, 31 January 2021

ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی

 ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی

دیوارِ خواب نیند نے تِرچھی اٹھائی تھی

ردِ دعا کا نصف اثاثہ تمہارے نام

تم نے بھی میرے ساتھ ہتھیلی اٹھائی تھی

ہاتھوں کو دل نے خون کی ترسیل روک دی

میں نے تمہاری یاد پہ انگلی اٹھائی تھی