Friday, 2 July 2021

آج نظر انداز ہوئے تو بات ہے کیا حیرانی کی

آج نظر انداز ہوئے تو بات ہے کیا حیرانی کی

آیت جیسے لوگ ملے اور ہم نے روگردانی کی

کتنے روپ کی دھوپ ہمارے سینے پر لہرائی تھی

ہم نے چادر کھینچ لی خود پر، ہم نے تن آسانی کی

کیا کرنا تھا حسنِ یوسف، اور زلیخا کیا بننا تھا

ہم نے دونوں لطف اٹھائے، ہم نے قصہ خوانی کی

دریاؤں سے ملتے جلتے لوگ رہے ہیں پہلو میں 

پھر بھی ہم نے بھر کے رکھی اپنی چھاگل پانی کی

پہلے میں نے حکم دیا تھا بس مجھ کو محسوس کرو

بعد میں اس کو جسم بنایا جس نے، نافرمانی کی


شبیر حسن

No comments:

Post a Comment