آج نظر انداز ہوئے تو بات ہے کیا حیرانی کی
آیت جیسے لوگ ملے اور ہم نے روگردانی کی
کتنے روپ کی دھوپ ہمارے سینے پر لہرائی تھی
ہم نے چادر کھینچ لی خود پر، ہم نے تن آسانی کی
کیا کرنا تھا حسنِ یوسف، اور زلیخا کیا بننا تھا
ہم نے دونوں لطف اٹھائے، ہم نے قصہ خوانی کی
دریاؤں سے ملتے جلتے لوگ رہے ہیں پہلو میں
پھر بھی ہم نے بھر کے رکھی اپنی چھاگل پانی کی
پہلے میں نے حکم دیا تھا بس مجھ کو محسوس کرو
بعد میں اس کو جسم بنایا جس نے، نافرمانی کی
شبیر حسن
No comments:
Post a Comment