Showing posts with label مصداق اعظمی. Show all posts
Showing posts with label مصداق اعظمی. Show all posts

Friday, 5 February 2021

تمام مے سے چھلکتے ہوئے ایاغ تھکے

 تمام مے سے چھلکتے ہوئے ایاغ تھکے

شبِ فراق کے سائے میں جب چراغ تھکے

قصور وار مسیحائیاں نہیں ہوں گی

ہمارے دل سے اگر تیرے غم کے داغ تھکے

مسافروں سے رقابت کی آڑ میں سورج

تِری تپش سے کئی سایہ دار باغ تھکے

Wednesday, 3 February 2021

شرم کی سرخی سے روشن راز کے ہمراز ہیں

 شرم کی سرخی سے روشن راز کے ہمراز ہیں

ہم محبت نام کی آواز کے ہمراز ہیں

آج کل جو آسماں چھونے کی ضد پر ہیں اڑے

ایسے ہی ہم صاحبِ پرواز کے ہمراز ہیں

سلسلہ افواہ کا کیسے تھمے اس شہر میں

آپ کے ہمراز کے، ہمراز کے، ہمراز ہیں

Monday, 18 January 2021

اک ضرورت ہے جو تحویل تک آ پہنچی ہے

 اک ضرورت ہے جو تحویل تک آ پہنچی ہے

ہر حقیقت یہاں تمثیل تک آ پہنچی ہے

اب اخوت پہ بھروسہ نہیں کرتی دنیا

آگہی نیتِ قابیل تک آ پہنچی ہے

اے مِرے مونس و غمخوار مجھے مرنے دے

بات اب حکم کی تعمیل تک آ پہنچی ہے

Tuesday, 12 January 2021

ہے چھپا الہام میں ترسیل ہو جانے کا راز

 ہے چھپا الہام میں ترسیل ہو جانے کا راز

شعر میں پیدا کرو تفصیل ہو جانے کا راز

کھولنے والا ہی ہے اہلِِ نفس پر عنقریب

وہ اچانک صورِ اسرافیل ہو جانے کا راز

مجھ سے کرتی ہے گزارش داستانِ حسن و عشق

کھولیے مت قاتلِ قابیل ہو جانے کا راز

وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ

 وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ

ڈوب جاتا ہے کوئی کیوں اتنی آسانی کے ساتھ

میری سانسوں کی مہک کا بھی بہت چرچا ہوا

رات جب میں نے گزاری رات کی رانی کے ساتھ

میں وہی ہوں، اور میرا مرتبہ مجھ سے بلند

نام اپنا لے رہا ہوں میں بھی حیرانی کے ساتھ

Sunday, 10 January 2021

مجنوں تو نہیں ہوں مگر کچھ تو ہوں آخر

 مجنوں تو نہیں ہوں مگر کچھ تو ہوں آخر

کرتا ہے مِرا عشق بھی رقصِ جنوں آخر

جنت میں بھی بے چین تھا دنیا میں بھی بے چین

انساں نے کہیں بھی نہیں پایا سکوں آخر

آنکھوں نے اشاروں سے تِرا ذکر کیا ہے

کیوں اپنی زباں سے میں تِرا نام لوں آخر

Saturday, 9 January 2021

درد کی جاگیر پر کیا شعر کہنا چاہیے

 درد کی جاگیر پر کیا شعر کہنا چاہیے

ہم کو طرزِِ میر پر کیا شعر کہنا چاہیے

درد مندی کےتقاضوں نے کِیا ہے پھر سوال

شعر کی تاثیر پر کیا شعر کہنا چاہیے

نغمۂ دار و رسن جب تک کوئی گاتا نہیں

حلقۂ زنجیر پر کیا شعر کہنا چاہیے

Thursday, 17 December 2020

کہیں قاتل کہیں لاشہ کہیں خنجر نہیں رہتا

 کہیں قاتل کہیں لاشہ کہیں خنجر🗡 نہیں رہتا

یہاں آنکھیں تو رہتی ہیں مگر منظر نہیں رہتا

تمہیں بھی میر صادق کی طرح جینا ہے تو جی لو

یہاں ٹیپو کے شانوں پر سلامت سر نہیں رہتا

کوئی آسیب ہے یا پھر مِری وحشت زدہ حالت

مِری موجودگی میں بھی مِرا گھر، گھر نہیں رہتا

Wednesday, 16 December 2020

بس اپنی ذات کے پل پل میں پھنس گیا کیسے

 بس اپنی ذات کے پل پل میں پھنس گیا کیسے

میں خواہشات کے جنگل میں پھنس گیا کیسے

مرے قلم کو تو لکھنے تھے قتل کے اسباب

مرا قلم ترے کاجل میں پھنس گیا کیسے

تجھے میں چھوڑ کے آیا تھا نیک لوگوں میں

تُو اس گناہ کی دلدل میں پھنس گیا کیسے