تمام مے سے چھلکتے ہوئے ایاغ تھکے
شبِ فراق کے سائے میں جب چراغ تھکے
قصور وار مسیحائیاں نہیں ہوں گی
ہمارے دل سے اگر تیرے غم کے داغ تھکے
مسافروں سے رقابت کی آڑ میں سورج
تِری تپش سے کئی سایہ دار باغ تھکے
تمام مے سے چھلکتے ہوئے ایاغ تھکے
شبِ فراق کے سائے میں جب چراغ تھکے
قصور وار مسیحائیاں نہیں ہوں گی
ہمارے دل سے اگر تیرے غم کے داغ تھکے
مسافروں سے رقابت کی آڑ میں سورج
تِری تپش سے کئی سایہ دار باغ تھکے
شرم کی سرخی سے روشن راز کے ہمراز ہیں
ہم محبت نام کی آواز کے ہمراز ہیں
آج کل جو آسماں چھونے کی ضد پر ہیں اڑے
ایسے ہی ہم صاحبِ پرواز کے ہمراز ہیں
سلسلہ افواہ کا کیسے تھمے اس شہر میں
آپ کے ہمراز کے، ہمراز کے، ہمراز ہیں
اک ضرورت ہے جو تحویل تک آ پہنچی ہے
ہر حقیقت یہاں تمثیل تک آ پہنچی ہے
اب اخوت پہ بھروسہ نہیں کرتی دنیا
آگہی نیتِ قابیل تک آ پہنچی ہے
اے مِرے مونس و غمخوار مجھے مرنے دے
بات اب حکم کی تعمیل تک آ پہنچی ہے
ہے چھپا الہام میں ترسیل ہو جانے کا راز
شعر میں پیدا کرو تفصیل ہو جانے کا راز
کھولنے والا ہی ہے اہلِِ نفس پر عنقریب
وہ اچانک صورِ اسرافیل ہو جانے کا راز
مجھ سے کرتی ہے گزارش داستانِ حسن و عشق
کھولیے مت قاتلِ قابیل ہو جانے کا راز
وقت کے ظالم سمندر میں پریشانی کے ساتھ
ڈوب جاتا ہے کوئی کیوں اتنی آسانی کے ساتھ
میری سانسوں کی مہک کا بھی بہت چرچا ہوا
رات جب میں نے گزاری رات کی رانی کے ساتھ
میں وہی ہوں، اور میرا مرتبہ مجھ سے بلند
نام اپنا لے رہا ہوں میں بھی حیرانی کے ساتھ
مجنوں تو نہیں ہوں مگر کچھ تو ہوں آخر
کرتا ہے مِرا عشق بھی رقصِ جنوں آخر
جنت میں بھی بے چین تھا دنیا میں بھی بے چین
انساں نے کہیں بھی نہیں پایا سکوں آخر
آنکھوں نے اشاروں سے تِرا ذکر کیا ہے
کیوں اپنی زباں سے میں تِرا نام لوں آخر
درد کی جاگیر پر کیا شعر کہنا چاہیے
ہم کو طرزِِ میر پر کیا شعر کہنا چاہیے
درد مندی کےتقاضوں نے کِیا ہے پھر سوال
شعر کی تاثیر پر کیا شعر کہنا چاہیے
نغمۂ دار و رسن جب تک کوئی گاتا نہیں
حلقۂ زنجیر پر کیا شعر کہنا چاہیے
کہیں قاتل کہیں لاشہ کہیں خنجر🗡 نہیں رہتا
یہاں آنکھیں تو رہتی ہیں مگر منظر نہیں رہتا
تمہیں بھی میر صادق کی طرح جینا ہے تو جی لو
یہاں ٹیپو کے شانوں پر سلامت سر نہیں رہتا
کوئی آسیب ہے یا پھر مِری وحشت زدہ حالت
مِری موجودگی میں بھی مِرا گھر، گھر نہیں رہتا
بس اپنی ذات کے پل پل میں پھنس گیا کیسے
میں خواہشات کے جنگل میں پھنس گیا کیسے
مرے قلم کو تو لکھنے تھے قتل کے اسباب
مرا قلم ترے کاجل میں پھنس گیا کیسے
تجھے میں چھوڑ کے آیا تھا نیک لوگوں میں
تُو اس گناہ کی دلدل میں پھنس گیا کیسے