ہے چھپا الہام میں ترسیل ہو جانے کا راز
شعر میں پیدا کرو تفصیل ہو جانے کا راز
کھولنے والا ہی ہے اہلِِ نفس پر عنقریب
وہ اچانک صورِ اسرافیل ہو جانے کا راز
مجھ سے کرتی ہے گزارش داستانِ حسن و عشق
کھولیے مت قاتلِ قابیل ہو جانے کا راز
آپ ہی جیسے مسافر تو چھپاتے ہیں یہاں
راہ کی ٹھوکر سے سنگِ میل ہو جانے کا راز
جاننا تو چاہتی ہی ہے زمانے کی ہوا
میرے دل میں یوں تِرے قندیل ہو جانے کا راز
میرے شاعر پہ عیاں ہے میری مرضی کے خلاف
اے نگاہِ ناز تیرے جھیل ہو جانے کا راز
کھو رہا ہے زندگی کے بے خبر ماحول میں
دل کی خوشیاں رنج میں تبدیل ہو جانے کا راز
لشکرِ فرعون کی نسلوں پہ بھی واضح ہوا
خشک اس کے حکم پر اے نیل ہو جانے کا راز
مصداق اعظمی
No comments:
Post a Comment