Tuesday, 12 January 2021

کتنے گنجل پڑ جاتے ہیں ایک گرہ سلجھانے میں

 کتنے گُنجل پڑ جاتے ہیں ایک گِرہ سُلجھانے میں

عمر ٹھکانے لگ جاتی ہے ریت پہ پھول بنانے میں

تخت پہ بیٹھا سوچ رہا ہوں مار دئیے ہیں کتنے لوگ

قصر کے اونچے دو برجوں پر ایک عَلم لہرانے میں

دھرتی کے قدموں پر میری پیشانی کا شَملہ ہے

اور کہاں تک جھکنا ہو گا اپنا بوجھ اٹھانے میں؟

تم تو شہد اتار کے واپس آ جاتے ہو جنگل سے

کتنی آنکھیں لگ جاتی ہیں درد کی آگ بجھانے میں

اب اجداد کی قبریں کھود کے پوچھ رہے ہیں ماضی سے

مستقبل محفوظ کِیا تھا تم نے کس تہہ خانے میں؟

جسموں کے عرشے پر بیٹھ کے ہم نے دریا پار کیا

جانے کتنے دن لگ جاتے کشتی کے بھر جانے میں

باغِ بغاوت مہک اٹھے گا اس کو خون سے مت سینچو

ورنہ دیمک لگ جائے گی طاقت کے کاشانے میں

ان بانہوں کی گونج میسر ہے میری خاموشی کو

پھر کوئی آواز سنائی کیسے دے ویرانے میں

عبرت کا جُزدان کھُلا تو حیرت سے ہلکان ہوئے

کیسے کیسے غم بکھرے ہیں دنیا کے خس خانے میں

اپنا آپ انڈیل دیا ہے پھر بھی صراحی خالی ہے

جانے کس کا جام بھرے گا دنیا کے مے خانے میں


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment