میں تمہیں بس فقط ایک بار
ساتھ لے جا کر اہرامِ مصر کے سائے میں
دیکھنا چاہتا ہوں
میں چاہتا ہوں
تمہیں خداؤں کا اختتام محسوس ہو
اسرار احمد لکوی
میں تمہیں بس فقط ایک بار
ساتھ لے جا کر اہرامِ مصر کے سائے میں
دیکھنا چاہتا ہوں
میں چاہتا ہوں
تمہیں خداؤں کا اختتام محسوس ہو
اسرار احمد لکوی
ایک سو تیس 130 کلومیٹر
مجھے ہر اس چیز سے نفرت ہے
جو مجھے تم سے
دوری کا احساس دلاتا رہتا ہے
میں ہائی وے پر
اس سمت سے آنا ترک کر رہا ہوں
میں خوش ہوں
میں تین راتوں سے جاگ رہا ہوں
مجھے پھر سے
بے خوابی کے دورے پڑ رہے ہیں
حالانکہ مجھے جیسا کہا گیا
میں نے ویسے کیا
تمہارے لمس کا اثر ہے
کہ وجود ابھی کئی بیماریوں میں ہے
مگر سکون میں ہے
لوگ کہتے ہیں؛
نفسیات کے ماہر سے ملو
وہ نہیں جانتے
کسی کی عینک کو مسئلہ ہے
تمہارے جانے سے
اور کچھ بھی نہیں ہوا ہے
بس وہ راستے کہ جن کی فٹ پاتھ پہ چلتے چلتے
میں تمہارا ہاتھ پکڑنے کی جتن کرتا اور ہار جاتا
نڈھال سے ہیں