ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
درپن
ٹھہری پانی میں
باتیں کرنے لگتے ہیں
چہرے پانی میں
آفتاب مضطر
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
درپن
ٹھہری پانی میں
باتیں کرنے لگتے ہیں
چہرے پانی میں
آفتاب مضطر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہ پُوچھ ہجرِ نبیﷺ میں ہیں لذتیں کیسی
سرُور بخش ہیں اس غم کی راحتیں کیسی
مدینے جاتی ہے دن رات میرے دل کی لگن
لگن کو فاصلے کیسے، مسافتیں کیسی؟
حضورﷺ آپ کے در کی گدائی کے آگے
جہاں کی خُسروی کیسی، حکومتیں کیسی
غم ہلکا ہو بھی سکتا ہے
وہ میرا ہو بھی سکتا ہے
ہو سکتا ہے وہ آیا ہو
ہو سایا، ہو بھی سکتا ہے
عشق نہیں ہے دھوکا، لیکن
یہ ہونا، ہو بھی سکتا ہے
زندہ بھینٹ
میری ماں سے کالی دیوی بولی؛
اپنے اکلوتے بیٹے کی بھینٹ
اگر تُو دے دے
اس کے بدلے
مایا دیوی تجھ کو مالا مال کرے گی
وہ دن بھی خوب تھے یعنی وصالِ یار کے دن
وہ اختیار کی راتیں،۔ وہ اعتبار کے دن
یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے یارو
کسی کے جیت کے دن ہیں کسی کے ہار کے دن
اُدھار دن کا چُکاتا ہے ڈُوبتا سورج
اندھیری شب میں اُترتا ہے جب اُتار کے دن
بچھڑ رہے ہو تو پلکوں پہ کیوں ستارے ہیں
قبول و رد کے سبھی فیصلے تمہارے ہیں
تمہاری بات پہ کیسے یقین کر لوں میں
تمہارے ساتھ بہت روز و شب گزارے ہیں
یہ ہم، جو دِیپ جلاتے ہیں روز پلکوں پر
یہ انتظارِ مجسم کے استعارے ہیں
ہر ظلم ترا یاد ہے، بھُولا تو نہیں ہوں
اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں
ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم، چلے جانا
میں ڈوب رہا ہوں، ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں
چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کےہاتھوں
مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں