Showing posts with label آفتاب مضطر. Show all posts
Showing posts with label آفتاب مضطر. Show all posts

Wednesday, 4 September 2024

درپن ٹھہری پانی میں

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے

درپن


ٹھہری پانی میں

باتیں کرنے لگتے ہیں

چہرے پانی میں


آفتاب مضطر

Friday, 2 February 2024

نہ پوچھ ہجر نبی میں ہیں لذتیں کیسی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نہ پُوچھ ہجرِ نبیﷺ میں ہیں لذتیں کیسی

سرُور بخش ہیں اس غم کی راحتیں کیسی

مدینے جاتی ہے دن رات میرے دل کی لگن

لگن کو فاصلے کیسے، مسافتیں کیسی؟

حضورﷺ آپ کے در کی گدائی کے آگے

جہاں کی خُسروی کیسی، حکومتیں کیسی

Sunday, 13 March 2022

غم ہلکا ہو بھی سکتا ہے وہ میرا ہو بھی سکتا ہے

 غم ہلکا ہو بھی سکتا ہے

وہ میرا ہو بھی سکتا ہے

ہو سکتا ہے وہ آیا ہو

ہو سایا، ہو بھی سکتا ہے

عشق نہیں ہے دھوکا، لیکن

یہ ہونا، ہو بھی سکتا ہے

Tuesday, 4 January 2022

زندہ بھینٹ میری ماں سے کالی دیوی بولی

 زندہ بھینٹ


میری ماں سے کالی دیوی بولی؛

اپنے اکلوتے بیٹے کی بھینٹ

اگر تُو دے دے

اس کے بدلے

مایا دیوی تجھ کو مالا مال کرے گی

Friday, 24 December 2021

وہ دن بھی خوب تھے یعنی وصال یار کے دن

 وہ دن بھی خوب تھے یعنی وصالِ یار کے دن

وہ اختیار کی راتیں،۔ وہ اعتبار کے دن

یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے یارو

کسی کے جیت کے دن ہیں کسی کے ہار کے دن

اُدھار دن کا چُکاتا ہے ڈُوبتا سورج

اندھیری شب میں اُترتا ہے جب اُتار کے دن

Thursday, 23 December 2021

بچھڑ رہے ہو تو پلکوں پہ کیوں ستارے ہیں

 بچھڑ رہے ہو تو پلکوں پہ کیوں ستارے ہیں

قبول و رد کے سبھی فیصلے تمہارے ہیں

تمہاری بات پہ کیسے یقین کر لوں میں

تمہارے ساتھ بہت روز و شب گزارے ہیں

یہ ہم، جو دِیپ جلاتے ہیں روز پلکوں پر 

یہ انتظارِ مجسم کے استعارے ہیں

Tuesday, 22 December 2020

ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں

 ہر ظلم ترا یاد ہے، بھُولا تو نہیں ہوں

اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں

ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم، چلے جانا

میں ڈوب رہا ہوں، ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں

چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کےہاتھوں

مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں