Thursday, 23 December 2021

بچھڑ رہے ہو تو پلکوں پہ کیوں ستارے ہیں

 بچھڑ رہے ہو تو پلکوں پہ کیوں ستارے ہیں

قبول و رد کے سبھی فیصلے تمہارے ہیں

تمہاری بات پہ کیسے یقین کر لوں میں

تمہارے ساتھ بہت روز و شب گزارے ہیں

یہ ہم، جو دِیپ جلاتے ہیں روز پلکوں پر 

یہ انتظارِ مجسم کے استعارے ہیں

ہمارا درد، ہمارا نہیں تمہارا ہے

تمہارے اشک تمہارے نہیں ہمارے ہیں

تمہاری چاہ میں ہم نے فراق کے دن رات 

گزارنے کے نہیں تھے، مگر گزارے ہیں 

ہوا سے کان میں کیا جانے کہہ دیا تم نے 

جلیں چراغ تمہارے، بُجھے ہمارے ہیں 

قدم یہ سوچ کر رکھنا جنوں کی وادی میں

کہ اس میں صرف خسارہ نہیں، خسارے ہیں 

عزیز غیر تمہیں آج ہو گئے مضطر

مگر وہ لوگ کہاں جائیں جو تمہارے ہیں


آفتاب مضطر

No comments:

Post a Comment