Thursday, 23 December 2021

بہت لڑتے ہو تم

 بہت لڑتے ہو تم

میں بھی تنک تابی میں

خاصی فرد ہوں

سو خوب جمتی ہے بہم اپنی

میں مشکل راستوں کی گرد

پلکوں پر سنبھالے آئی ہوں

تم تک

مِرے نزدیک کے ہر منطقے میں

تم بھی

اپنے بالوں کی چاندی پہ اتراتے

پراگندہ مزاجی میں گندھے

اکھڑے ہوئے تاروں کی

پگڈنڈی کے

دل میں گھومتے ہو

محبت کی بھڑک

لفظوں میں کم

آنکھوں کی ہلچل میں

زیادہ لے کے پھرتی ہوں

مِرے نوکیلے لہجے کی

چبھن کے اس طرف دل کی

بہت ہی ریشمی حد تک

تمہاری آنکھ جاتی ہے

تعلق میں رواداری کا نم

جانے کہاں سے آتا ہے

اور آ کے ہم دونوں کی

آویزش کی سب

منہ زوریاں زنجیر کرتا ہے

سنو سب گفتگو کے سلسلے

میری تمہاری خامشی کی

بھیگ سے سرسبز رہتے ہیں

مِری نظموں کا مرکز

آج کے پل کی

سجل دنیا میں بس تم ہو

تمہی سے برسر پیکار ہوں

اور بے تحاشہ ملتفت بھی

تم تعارض کے گدازوں میں

مجھے دیکھو

میں اپنے دل کے توسن کو

بہت سرپٹ بھگاتی

خاک کے طوفاں جگاتی

جس گلستاں کی تمنا کی

ڈگر پر جا رہی ہوں

اس کی حد پر تم

اس کی حد پر تم

کہیں اک پیڑ کے پہلو میں

دل بن کر دھڑکتے ہو

کہیں فطرت کے

پیچ و تاب میں زنجیر ہو

اور دھوپ کی یلغار میں

میرے لیے چھاؤں کا

اک نا مختتم احساس بنتے ہو

بہت ہی دور سے بس

تم ہی مجھ کو صاف سنتے ہو


مہناز انجم

No comments:

Post a Comment