خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے
وہ میرے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہے
عجب نہیں کہ اسے میری آرزو ہی نہ ہو
کہ اب وہ آنے میں تاخیر کرتا رہتا ہے
نئے مکان کی وسعت نہ اس کو راس آئی
وہ اب بھی ذہن میں تصویر کرتا رہتا ہے
خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے
وہ میرے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہے
عجب نہیں کہ اسے میری آرزو ہی نہ ہو
کہ اب وہ آنے میں تاخیر کرتا رہتا ہے
نئے مکان کی وسعت نہ اس کو راس آئی
وہ اب بھی ذہن میں تصویر کرتا رہتا ہے
بقا کی چاہ میں تو دیکھ بے مکان نہ ہو
زمین تیری حقیقت ہے آسمان نہ ہو
رہ نجات میں منزل کی جستجو کس کو
یہ وہ سفر ہے کہ جس میں کبھی تھکان نہ ہو
یہاں سبھی کی رسائی تو غیر ممکن ہے
یہ تجربات کی محفل ہے بد گمان نہ ہو
رُت بدلتی ہے، بدلتا نہیں منظر سائیں
اب کہاں جائے بتا تیرا قلندر سائیں؟
اک مِرے نام نہیں تیری سخاوت ورنہ
جگمگاتا ہے کرشمہ تِرا در در سائیں
شہر کا شہر ہُوا جاتا ہے کیسے سیراب
کون آیا ہے یہاں لے کے سمندر سائیں
جھنکار کا رشتہ تو ہے زنجیر سے سائیں
کیوں لوگ پریشاں ہوئے تعبیر سے سائیں
کچھ لوگ ابھی شہر میں ایسے بھی ہیں خوش پوش
جو آگ لگا دیتے ہیں تقریر سے سائیں
حق بولنے کا حوصلہ اب ہم میں نہیں ہے
نسبت تو نکلتی رہی شبیرؑ سے سائیں
موسموں کی طرح بدلا میں کہ تُو
کون کس کو بھُول بیٹھا میں کہ تو
سامنے دریا، مگر پابندیاں
ایک اک قطرے کو ترسا میں کہ تو
پاکئی داماں کے افسانے نہ کہہ
کون ہے ہر سمت رُسوا میں کہ تو