Showing posts with label بسمل عارفی. Show all posts
Showing posts with label بسمل عارفی. Show all posts

Wednesday, 19 August 2026

خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے

 خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے

وہ میرے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہے

عجب نہیں کہ اسے میری آرزو ہی نہ ہو

کہ اب وہ آنے میں تاخیر کرتا رہتا ہے

نئے مکان کی وسعت نہ اس کو راس آئی

وہ اب بھی ذہن میں تصویر کرتا رہتا ہے

Sunday, 16 March 2025

بقا کی چاہ میں تو دیکھ بے مکان نہ ہو

 بقا کی چاہ میں تو دیکھ بے مکان نہ ہو

زمین تیری حقیقت ہے آسمان نہ ہو

رہ نجات میں منزل کی جستجو کس کو

یہ وہ سفر ہے کہ جس میں کبھی تھکان نہ ہو

یہاں سبھی کی رسائی تو غیر ممکن ہے

یہ تجربات کی محفل ہے بد گمان نہ ہو

Thursday, 6 March 2025

رت بدلتی ہے بدلتا نہیں منظر سائیں

 رُت بدلتی ہے، بدلتا نہیں منظر سائیں

اب کہاں جائے بتا تیرا قلندر سائیں؟

اک مِرے نام نہیں تیری سخاوت ورنہ

جگمگاتا ہے کرشمہ تِرا در در سائیں

شہر کا شہر ہُوا جاتا ہے کیسے سیراب

کون آیا ہے یہاں لے کے سمندر سائیں

Monday, 10 June 2024

جھنکار کا رشتہ تو ہے زنجیر سے سائیں

 جھنکار کا رشتہ تو ہے زنجیر سے سائیں

کیوں لوگ پریشاں ہوئے تعبیر سے سائیں

کچھ لوگ ابھی شہر میں ایسے بھی ہیں خوش پوش

جو آگ لگا دیتے ہیں تقریر سے سائیں

حق بولنے کا حوصلہ اب ہم میں نہیں ہے

نسبت تو نکلتی رہی شبیرؑ سے سائیں

Friday, 2 July 2021

موسموں کی طرح بدلا میں کہ تو

 موسموں کی طرح بدلا میں کہ تُو

کون کس کو بھُول بیٹھا میں کہ تو

سامنے دریا، مگر پابندیاں

ایک اک قطرے کو ترسا میں کہ تو

پاکئی داماں کے افسانے نہ کہہ

کون ہے ہر سمت رُسوا میں کہ تو