موسموں کی طرح بدلا میں کہ تُو
کون کس کو بھُول بیٹھا میں کہ تو
سامنے دریا، مگر پابندیاں
ایک اک قطرے کو ترسا میں کہ تو
پاکئی داماں کے افسانے نہ کہہ
کون ہے ہر سمت رُسوا میں کہ تو
جستجو کس کو نئی دنیا کی تھی
دشت میں شعلوں کے بھٹکا میں کہ تو
زندگی کے سخت و سنگیں موڑ پر
کون تھا کس کا سہارا میں کہ تو
جس میں دونوں کی بھلائی تھی نہاں
ایسے ہر نکتے کو سمجھا میں کہ تو
جاگتی آنکھوں سے بسمل آج کل
دیکھتا ہے کون سپنا میں کہ تو
بسمل عارفی
No comments:
Post a Comment