نہ میں خیال میں تیرے نہ میں گمان میں ہوں
یقین دل کو نہیں ہے کہ اس جہان میں ہوں
خدایا رکھے گا دنیا میں سرفراز مجھے
میں پہلے عشق کے پہلے ہی امتحان میں ہوں
وہ جس کو دیکھ کے بچے بھی سارے چھوڑ گئے
میں ایک ٹوٹا کھلونا کسی دوکان میں ہوں
یہ اور بات ہے چھت ہے نہ اس میں دروازے
خدا کا شکر ہے میں اپنے ہی مکان میں ہوں
بڑا طویل سفر تھا یہ زندگی کا مِری
فرشتوں سونے دو مجھ کو کہ میں تھکان میں ہوں
اب ان سے کیسے کہوں فوزیہ کہ اب بھی میں
کبھی نہیں تو کبھی ہاں کے درمیان میں ہوں
فوزیہ مغل
No comments:
Post a Comment