Friday, 2 July 2021

نہ میں خیال میں تیرے نہ میں گمان میں ہوں

 نہ میں خیال میں تیرے نہ میں گمان میں ہوں

یقین دل کو نہیں ہے کہ اس جہان میں ہوں

خدایا رکھے گا دنیا میں سرفراز مجھے

میں پہلے عشق کے پہلے ہی امتحان میں ہوں

وہ جس کو دیکھ کے بچے بھی سارے چھوڑ گئے

میں ایک ٹوٹا کھلونا کسی دوکان میں ہوں

یہ اور بات ہے چھت ہے نہ اس میں دروازے

خدا کا شکر ہے میں اپنے ہی مکان میں ہوں

بڑا طویل سفر تھا یہ زندگی کا مِری 

فرشتوں سونے دو مجھ کو کہ میں تھکان میں ہوں

اب ان سے کیسے کہوں فوزیہ کہ اب بھی میں

کبھی  نہیں تو کبھی ہاں کے درمیان میں ہوں


فوزیہ مغل

No comments:

Post a Comment