جانے کیسے کٹی
زندگی دوستا
مار دیتی ہے یہ
بے رخی دوستا
ہائے وہ خوبرو
گندمی دوستا
جانے کیسے کٹی
زندگی دوستا
مار دیتی ہے یہ
بے رخی دوستا
ہائے وہ خوبرو
گندمی دوستا
زندگی درد ہے
واقعی درد ہے
کیا کہا عشق میں
سرسری درد ہے
جھانک دل میں مِرے
درد ہی درد ہے
مِری بے چارگی کا کچھ تو چارا بن گیا یارو
مجھی سے ملنے کا وعدہ سہارا بن گیا یارو
کہانی میں جہاں پر نفرتوں کے تھے بھنور سارے
وہاں پر بھی محبت کا کنارا بن گیا یارو
جسے تنکا سمجھ کے میں نے دریا میں بہایا تھا
بھنور میں آج حیرت ہے سہارا بن گیا یارو
رات گہری ہے گھر گیا ہو گا
اب وہ پاگل سُدھر گیا ہو گا
جس کو اس نے چُھوا تھا ہمدم وہ
پُھول تو اب نِکھر گیا ہو گا
اس پہ الزام تھا محبت کا
قتل گہ میں ٹھہر گیا ہو گا
مجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے
اس لیے سب کو مجھ سے نفرت ہے
میرے کمرے میں اور کیا ہو گا
بس کتابیں ہیں اور وحشت ہے
دل کے اتنے وسیع رقبے پر💓
صرف اک شخص کی حکومت ہے
شجر نہ کاٹو، شجر نہ کاٹو، شجر نہ کاٹو خدا کی خاطر
صدا مسلسل یہ دے رہے ہیں پرند اپنی بقا کی خاطر
جمیل صورت، غزال آنکھیں، مزاج نازک، گلاب لہجہ
مرے خدا کیا یہ تن بنایا ہے صرف تُو نے فنا کی خاطر
خیال رکھا گیا جدائی کے بعد بھی ایک دوسرے کا
اگرچہ دونوں بچھڑ گئے تھے ہم اپنی اپنی انا کی خاطر