Showing posts with label اویس قرنی. Show all posts
Showing posts with label اویس قرنی. Show all posts

Saturday, 6 November 2021

جانے کیسے کٹی زندگی دوستا

 جانے کیسے کٹی

زندگی دوستا

مار دیتی ہے یہ

بے رخی دوستا

ہائے وہ خوبرو

گندمی دوستا

Wednesday, 27 October 2021

زندگی درد ہے واقعی درد ہے

 زندگی درد ہے

واقعی درد ہے

کیا کہا عشق میں

سرسری درد ہے

جھانک دل میں مِرے

درد ہی درد ہے

Thursday, 21 October 2021

مری بے چارگی کا کچھ تو چارہ بن گیا یارو

 مِری بے چارگی کا کچھ تو چارا بن گیا یارو

مجھی سے ملنے کا وعدہ سہارا بن گیا یارو

کہانی میں جہاں پر نفرتوں کے تھے بھنور سارے

وہاں پر بھی محبت کا کنارا بن گیا یارو

جسے تنکا سمجھ کے میں نے دریا میں بہایا تھا

بھنور میں آج حیرت ہے سہارا بن گیا یارو

Wednesday, 20 October 2021

رات گہری ہے گھر گیا ہو گا

 رات گہری ہے گھر گیا ہو گا

اب وہ پاگل سُدھر گیا ہو گا

جس کو اس نے چُھوا تھا ہمدم وہ

پُھول تو اب نِکھر گیا ہو گا

اس پہ الزام تھا محبت کا

قتل گہ میں ٹھہر گیا ہو گا

Saturday, 12 December 2020

مجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے

 مجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے

اس لیے سب کو مجھ سے نفرت ہے

میرے کمرے میں اور کیا ہو گا

بس کتابیں ہیں اور وحشت ہے

دل کے اتنے وسیع رقبے پر💓

صرف اک شخص کی حکومت ہے

Sunday, 15 November 2020

شجر نہ کاٹو شجر نہ کاٹو شجر نہ کاٹو خدا کی خاطر

 شجر نہ کاٹو، شجر نہ کاٹو، شجر نہ کاٹو خدا کی خاطر

صدا مسلسل یہ دے رہے ہیں پرند اپنی بقا کی خاطر

جمیل صورت، غزال آنکھیں، مزاج نازک، گلاب لہجہ

مرے خدا کیا یہ تن بنایا ہے صرف تُو نے فنا کی خاطر

خیال رکھا گیا جدائی کے بعد بھی ایک دوسرے کا

اگرچہ دونوں بچھڑ گئے تھے ہم اپنی اپنی انا کی خاطر