Sunday, 15 November 2020

شجر نہ کاٹو شجر نہ کاٹو شجر نہ کاٹو خدا کی خاطر

 شجر نہ کاٹو، شجر نہ کاٹو، شجر نہ کاٹو خدا کی خاطر

صدا مسلسل یہ دے رہے ہیں پرند اپنی بقا کی خاطر

جمیل صورت، غزال آنکھیں، مزاج نازک، گلاب لہجہ

مرے خدا کیا یہ تن بنایا ہے صرف تُو نے فنا کی خاطر

خیال رکھا گیا جدائی کے بعد بھی ایک دوسرے کا

اگرچہ دونوں بچھڑ گئے تھے ہم اپنی اپنی انا کی خاطر

کہیں سے لے کر وہ لائے تیرے بدن کی خوشبو ہماری جانب

ہم ایسے لوگوں نے اب دریچے کھلے رکھے ہیں ہوا کی خاطر

ہمارے سرکش مزاج کو جو نہ چین آیا بہشت میں بھی

تو اس لیے ہی ہمیں اتارا گیا فلک سے سزا کی خاطر


اویس قرنی

No comments:

Post a Comment