کس طرح ڈوب کے بحراب میں غواص نڈر
آب کی تہ سے ابھرتے ہیں، گُہر لاتے ہیں
کس طرح جان کو بازی پہ لگانے والے
باد کے دوش پہ افلاک پہ اڑ جاتے ہیں
کِس طرح موجوں میں گِھر کر بھی، تھپیڑے کھاتا
موت کی سمت بڑھے جاتا ہے جنگی بیڑہ
کس طرح ڈوب کے بحراب میں غواص نڈر
آب کی تہ سے ابھرتے ہیں، گُہر لاتے ہیں
کس طرح جان کو بازی پہ لگانے والے
باد کے دوش پہ افلاک پہ اڑ جاتے ہیں
کِس طرح موجوں میں گِھر کر بھی، تھپیڑے کھاتا
موت کی سمت بڑھے جاتا ہے جنگی بیڑہ
میں نہ محبُوسِ مکاں ہو کے رہوں گا ہرگز
دل میں اب شوق سمایا ہے جہاں بینی کا
دیکھنا ہے یہ مجھے کس طرح ہوتا ہے اسِیر
آدمی گردشِ دوراں کا، غمِ گیتی کا
مُلکوں مُلکوں یہ چمکتا ہوا تارا دیکھوں
کس طرح کرتا ہے پرواز ستارہ دیکھوں
افلاس تیرے جور و سِتم بھی ہیں بے شمار
چھینی ہے مجھ سے، تُو نے مِری زیست کی بہار
تھے دن ہنسی خوشی کے، مگر میں ہُوں مضمحل
کِھلنے کا یہ زمانہ تھا، مُرجھا گیا ہے دل
دستِ طلب بڑھاتا بھی ہُوں گو اِدھر اُدھر
آتی ہے مجھ کو سامنے صُورت تِری نظر
کس طرح چِیر کے دھرتی کا کلیجہ آخر
نسلِ آدم پہ زر و سیم اُٹھا لاتی ہے
کون سی ایسی حسیں شے ہے وہ، جس کی چاہت
کوہ کی چوٹی کی تسخیر کو اُکساتی ہے
کون سی آس ہے وہ، جس کا پکڑ کر دامن
چھانتے پھرتے ہیں صحراؤں کو بھی اہلِ فن
افلاس تُو نے بخشا بڑا مرتبہ مجھے
عیسیٰ کی صف میں لا کے کھڑا کر دیا مجھے
جو تاج تُو نے بخشا ہے گو ہے وہ داغدار
اِس سے مگر بلند ہُوا ہے مِرا وقار
تیرے طفیل کہتا ہُوں ہر بات بے خطر
جو میرے دل میں ہے وہی میری زبان پر
چیر کے دھرتی کو پھر زیرِ زمِیں اتروں گا
چاک کر کے یہ فلک عرش پہ جا پہنچوں گا
میں نہ محبوسِ مکاں ہو کے رہوں گا ہرگز
آرزو دل میں یہ جاگی ہے، جہاں دیکھوں گا
آب میں، باد میں، افلاک میں، کوہساروں میں
چاند تاروں میں، نہاں رنگِ جہاں دیکھوں گا
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
اے ستار اے غفار کر دے بیڑا پار
دریا پہاڑ جنگل، کرتے ہیں روز منگل
زمین و آسماں کے ذرے ذرے کا عقیدہ ہے
تُو ہے پالنہار، تُو ہے کھیون ہار
تُو ہی ہے کرتار، اے ستار
روزی دینا کام ہے تیرا