Showing posts with label قاضی نذرالاسلام. Show all posts
Showing posts with label قاضی نذرالاسلام. Show all posts

Monday, 11 April 2022

کس طرح ڈوب کے بحراب میں غواص نڈر

 کس طرح ڈوب کے بحراب میں غواص نڈر

آب کی تہ سے ابھرتے ہیں، گُہر لاتے ہیں

کس طرح جان کو بازی پہ لگانے والے

باد کے دوش پہ افلاک پہ اڑ جاتے ہیں

کِس طرح موجوں میں گِھر کر بھی، تھپیڑے کھاتا

موت کی سمت بڑھے جاتا ہے جنگی بیڑہ

Wednesday, 23 February 2022

میں نہ محبوس مکاں ہو کے رہوں گا ہرگز

 میں نہ محبُوسِ مکاں ہو کے رہوں گا ہرگز

دل میں اب شوق سمایا ہے جہاں بینی کا

دیکھنا ہے یہ مجھے کس طرح ہوتا ہے اسِیر

آدمی گردشِ دوراں کا، غمِ گیتی کا

مُلکوں مُلکوں یہ چمکتا ہوا تارا دیکھوں

کس طرح کرتا ہے پرواز ستارہ دیکھوں

Thursday, 23 December 2021

افلاس تیرے جور و ستم بھی ہیں بے شمار

 افلاس تیرے جور و سِتم بھی ہیں بے شمار

چھینی ہے مجھ سے، تُو نے مِری زیست کی بہار

تھے دن ہنسی خوشی کے، مگر میں ہُوں مضمحل

کِھلنے کا یہ زمانہ تھا، مُرجھا گیا ہے دل

دستِ طلب بڑھاتا بھی ہُوں گو اِدھر اُدھر

آتی ہے مجھ کو سامنے صُورت تِری نظر

Tuesday, 14 December 2021

کس طرح چیر کے دھرتی کا کلیجہ آخر

 کس طرح چِیر کے دھرتی کا کلیجہ آخر

نسلِ آدم پہ زر و سیم اُٹھا لاتی ہے

کون سی ایسی حسیں شے ہے وہ، جس کی چاہت

کوہ کی چوٹی کی تسخیر کو اُکساتی ہے

کون سی آس ہے وہ، جس کا پکڑ کر دامن

چھانتے پھرتے ہیں صحراؤں کو بھی اہلِ فن

Monday, 13 December 2021

افلاس تو نے بخشا بڑا مرتبہ مجھے

 افلاس تُو نے بخشا بڑا مرتبہ مجھے

عیسیٰ کی صف میں لا کے کھڑا کر دیا مجھے

جو تاج تُو نے بخشا ہے گو ہے وہ داغدار

اِس سے مگر بلند ہُوا ہے مِرا وقار

تیرے طفیل کہتا ہُوں ہر بات بے خطر

جو میرے دل میں ہے وہی میری زبان پر

Sunday, 12 December 2021

چیر کے دھرتی کو پھر زیر زمِیں اتروں گا

چیر کے دھرتی کو پھر زیرِ زمِیں اتروں گا

چاک کر کے یہ فلک عرش پہ جا پہنچوں گا

 میں نہ محبوسِ مکاں ہو کے رہوں گا ہرگز

آرزو دل میں یہ جاگی ہے، جہاں دیکھوں گا

آب میں، باد میں، افلاک میں، کوہساروں میں

چاند تاروں میں، نہاں رنگِ جہاں دیکھوں گا

اے ستار اے غفار کر دے بیڑا پار

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


اے ستار اے غفار کر دے بیڑا پار

دریا پہاڑ جنگل، کرتے ہیں روز منگل

زمین و آسماں کے ذرے ذرے کا عقیدہ ہے

تُو ہے پالنہار، تُو ہے کھیون ہار

تُو ہی ہے کرتار، اے ستار

روزی دینا کام ہے تیرا