کس طرح ڈوب کے بحراب میں غواص نڈر
آب کی تہ سے ابھرتے ہیں، گُہر لاتے ہیں
کس طرح جان کو بازی پہ لگانے والے
باد کے دوش پہ افلاک پہ اڑ جاتے ہیں
کِس طرح موجوں میں گِھر کر بھی، تھپیڑے کھاتا
موت کی سمت بڑھے جاتا ہے جنگی بیڑہ
کیسے آ جاتے ہے بحراب میں لاکھوں ہیرے
آب کی تہ میں انہیں کون بِچھا جاتا ہے
کون سی ہے وہ کشش، کون سا ہے مقناطیس
کھینچ کر پانی کو ساگر میں جو مد لاتا ہے
قاضی نذرالاسلام
ترجمہ: احمد سعدی
No comments:
Post a Comment