Monday, 11 April 2022

جاگے جو خواب غم سے پھر نیند ہی نہ آئی

 جاگے جو خوابِ غم سے پھر نیند ہی نہ آئی

دہشت کے زیر و بم سے پھر نیند ہی نہ آئی

معلوم ہی نہیں کچھ ہم کیسے سو گئے تھے

ڈر کر رخِ ستم سے پھر نیند ہی نہ آئی

تاروں سے رابطے کچھ قائم رہے ہمہ شب

اس شغلِ مغتنم سے پھر نیند ہی نہ آئی

گونجی سکوت شب میں آواز جانے کس کی

ہم کو تو خوفِ غم سے پھر نیند ہی نہ آئی

آئی جو یاد اظہر! شب کو جفائے یاراں

چشمِ وفا کے نم سے پھر نیند ہی نہ آئی


ضمیر اظہر

No comments:

Post a Comment