Monday, 11 April 2022

کیا عجب زمانہ تھاعشق کا فسانہ تھا

 تم بھی سوچتی ہو گی

کیا عجب زمانہ تھا

عشق کا فسانہ تھا

وصل کی کہانی تھی

بات کچھ نئی سی تھی

پیار کے فسانے میں

اس سے دل لگانے میں

اس کو آزمانے میں

اس کے روٹھ جانے میں

پھر اسے منانے میں

اس کے لب کی جنبش پر

تم مچل سی جاتی تھیں

پھر سنبھل بھی جاتی تھیں

جس نے عمر بھر تم کو

صرف تم کو چاہا تھا

صرف تم کو سوچا تھا

جس کے دل کی دھڑکن پر

ایک نام لکھا تھا

اور وہ تمہارا تھا

جو تمہاری چاہت میں

روز جیتا مرتا تھا

تم سے پیار کرتا تھا

تم بھی سوچتی ہو گی

آدمی تو اچھا تھا


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment