تم بھی سوچتی ہو گی
کیا عجب زمانہ تھا
عشق کا فسانہ تھا
وصل کی کہانی تھی
بات کچھ نئی سی تھی
پیار کے فسانے میں
اس سے دل لگانے میں
اس کو آزمانے میں
اس کے روٹھ جانے میں
پھر اسے منانے میں
اس کے لب کی جنبش پر
تم مچل سی جاتی تھیں
پھر سنبھل بھی جاتی تھیں
جس نے عمر بھر تم کو
صرف تم کو چاہا تھا
صرف تم کو سوچا تھا
جس کے دل کی دھڑکن پر
ایک نام لکھا تھا
اور وہ تمہارا تھا
جو تمہاری چاہت میں
روز جیتا مرتا تھا
تم سے پیار کرتا تھا
تم بھی سوچتی ہو گی
آدمی تو اچھا تھا
فیصل ودود
No comments:
Post a Comment