Showing posts with label دلدار علوی. Show all posts
Showing posts with label دلدار علوی. Show all posts

Friday, 22 March 2024

کھل کے آ جائے گی ہر بات ذرا صبر کرو

 کھل کے آ جائے گی ہر بات، ذرا صبر کرو

وقت ہے کاشفِ حالات، ذرا صبر کرو

صبح نکلے گی تو ہو جائے گی ظاہر ہر شے 

چند گھڑیوں کی ہے یہ رات، ذرا صبر کرو 

سامنے کون ہے اور کون پسِ پردہ ہے؟

چھپ سکے گی نہ کوئی بات، ذرا صبر کرو

Friday, 1 March 2024

خدا سے دل ہے بس اتنا دعا گزار مرا

خُدا سے دل ہے بس اتنا دُعا گُزار مِرا

تمہارے چاہنے والوں میں ہو شمار مرا

کھڑے تھے روک کے غم راستہ ہزار مرا

تِری نظر نے نہ گرنے دیا وقار مرا

رہے گا یوں ہی ہمیشہ نہ دل فگار مرا

خدا نے چاہا تو بدلے گا حالِ زار مرا

Monday, 25 December 2023

توانا رکھتی ہے ہر آن آرزوئے رسول

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


توانا رکھتی ہے ہر آن آرزُوئے رسولﷺ

نڈھال ہونے نہیں دیتی جستجُوئے رسولﷺ

تمام دعوے محبت کے میرے ناقص ہیں

جو میرے طرزِ عمل سے نہ جھلکے خُوئے رسولؐ

مرے لیے ہیں یہ عنبر یہ مشک بے معنی

مجھے تو رکھتی ہے سرمست ایک بُوئے رسولؐ

Sunday, 24 December 2023

یہ کائنات جس نے تخلیق کی عدم سے میرا خدا وہی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

میرا خُدا وہی ہے


یہ کائنات جس نے تخلیق کی عدم سے

قائم ہے نظمِ ہستی جس ذات کے کرم سے

نورِ ازل سے جس کے دنیا میں روشنی ہے

میرا خُدا وہی ہے، میرا خُدا وہی ہے


سب کی ضرورتوں کا سامان کرنے والا 

سارے جہاں پہ اپنا احسان کرنے والا

Monday, 13 December 2021

میخانۂ حاضر کا نظام اور طرح کا

مے خانۂ حاضِر کا نظام اور طرح کا

مے اور طرح کی ہے تو جام اور طرح کا 

اس دور کے ساقی کا ہے اپنے لیے کچھ اور

اوروں کے لیے بادہ و جام اور طرح کا

اوروں میں لُٹائے ہیں سبُو اور طرح کے

اور مجھ کو دیا اس نے ہے جام اور طرح کا

Tuesday, 24 August 2021

کاش تجھے دکھائی دے کاش تجھے سنائی دے

 کاش


اے مِرے رہنمائے قوم

کام کرے نہ جب دماغ

منہ کا دیں کان ساتھ کیوں؟

کیسے نہ ڈگمگائیں پیر

کھوئیں نہ ربط ہاتھ کیوں؟

اے مِرے رہنمائے قوم

Sunday, 10 January 2021

پھر کوئی بانگ درا خواب گراں تک پہنچے

پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گِراں تک پہنچے

کوئی آواز درُوں، خانۂ جاں تک پہنچے 

شرق تا غرب ہر اک پِیر و جواں تک پہنچے

"میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے" 

اس تبسّم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے

کِھل اُٹھے غُنچۂ دل مُشک جہاں تک پہنچے 

میری مہجورئ پیہم کا بھی درماں یا رب

قافلے شوق کے اسرارِ نہاں تک پہنچے 

حوصلے نے گُل و گُلزار کیا صحرا کو

پاؤں ہمّت کے سرِ کوہستاں تک پہنچے 

مر گئے گُھٹ کے دم اپنے ہی نہاں خانے میں

دل کے ارمان بہت کم ہی زباں تک پہنچے 

پیار کہتے ہیں جسے نام ہے قُربانی کا

وہ تجارت ہے کہ جو سُود و زیاں تک پہنچے 

اتنا آسان نہ تھا عشق کی منزل کا سفر

زندگی ہم نے لُٹائی تو یہاں تک پہنچے 

تُو نے جو آگ لگائی تھی مِرے آنگن میں

اس کے شُعلے ہیں جو یہ تیرے مکاں تک پہنچے 

میرا کردار بھی ہے گردشِ ایّام کے ساتھ

بے سبب نغمے نہیں آہ و فُغاں تک پہنچے 

زندگی پُھونک چُکی آتشِ فُرقت دلدار

آگے یہ دُشمنِ جاں جانے کہاں تک پہنچے 


دلدار احمد علوی