Monday, 13 December 2021

میخانۂ حاضر کا نظام اور طرح کا

مے خانۂ حاضِر کا نظام اور طرح کا

مے اور طرح کی ہے تو جام اور طرح کا 

اس دور کے ساقی کا ہے اپنے لیے کچھ اور

اوروں کے لیے بادہ و جام اور طرح کا

اوروں میں لُٹائے ہیں سبُو اور طرح کے

اور مجھ کو دیا اس نے ہے جام اور طرح کا

پُوچھو نہ مزاج اس بُتِ سیماب صِفت کا

صُبح اور طرح کا ہے تو شام اور طرح کا

صیّاد کا مقصد ہے وہی خونِ دل و جاں

دھوکے میں نہ ڈالے تمہیں دام اور طرح کا

دیکھے ہے زمانہ جسے حسرت کی نظر سے

اس شوخ کا اندازِ خِرام اور طرح کا

کیا کیا نہیں دُنیا میں تکلّم کی ادائیں

اس کا ہے مگر طرزِ کلام اور طرح کا 

اِس بزم میں کچھ اور ہے اُس بزم میں کچھ اور

ہرجائی کا ہر جا ہے پیام اور طرح کا 

دلدار! یہ معیار ہے اس عالمِ نَو کا

کام اور طرح کا ہے کلام اور طرح کا


دلدار احمد علوی

No comments:

Post a Comment