پنچھی تِری منڈیر سے اُڑ جائے کہیں اور
اس کا تو ٹھکانہ ہی نہیں دل کے قرِیں اور
وِیران ہی پھر رہنے دیا خانۂ دل💔 کو
ملتا بھی کہاں تم سا کوئی اس کو مکیں اور
صدیقؓ کی بیٹی کو یوں ازبر تھیں حدیثیں
دیکھی نہیں ان جیسی زمانے میں ذہیں اور
ساغر ہیں کہ مِینا ہیں کہ پیمانے ہیں لبریز
آنسو تِری آنکھوں کو بناتے ہیں حسیں اور
محفل میں ہوں موجود مگر کس کو خبر ہے
دل میرا کہیں اور ہے جاں میری کہیں اور
انوار انا کو مِرے مولا! وہ عطا کر
موجود ہو دنیا میں پہنچ جاؤں کہیں اور
نفیسہ سلطانہ انا
No comments:
Post a Comment