Showing posts with label حمزہ حسام. Show all posts
Showing posts with label حمزہ حسام. Show all posts

Saturday, 18 May 2024

میرے مولا یہ کس کی چاہت ہے

 میرے مولا یہ کس کی چاہت ہے

اور چاہت بھی کیا مصیبت ہے 

خودکشی کے کئی طریقے ہیں 

سب سے پہلا مگر محبت ہے 

گر بچھڑنا ہے تو اجازت کیا 

ہاتھ چھوڑو، تمہیں اجازت ہے 

Saturday, 11 May 2024

مجھے افسوس ہے یارا کہ تم بھی اور ہی نکلے

 اور


تمہیں میں اور سمجھا تھا 

تمہیں دل میں بسایا تھا 

تمہاری بات مانی تھی 

تمہیں سینے لگایا تھا 

تمہارے درد پالے تھے 

مگر تم کو ہنسایا تھا 

Friday, 10 May 2024

بتا نہ یہ کیسا دکھ ہے

 عجیب دُکھ


یہ کیسا دُکھ ہے جو میرے پیچھے 

نجانے کتنے دنوں سے یونہی لگا ہُوا ہے

میں پوچھتا ہوں یہ کیسا دُکھ ہے؟

یہ کیسا دُکھ ہے جو مجھ کو اندر سے کھا رہا ہے 

یہ رائیگانی کا دُکھ ہے مجھ کو 

یا پھر الگ ہی معاملہ ہے 

Thursday, 9 May 2024

گلیوں کی راستوں کی محلوں کی خیر ہو

 گلیوں کی راستوں کی مُحلوں کی خیر ہو

تیری طرف کے سارے درختوں کی خیر ہو 

وہ چھت پے آ گئی ہے کُھلے بال چھوڑ کر 

اُڑتے ہوئے فلک پہ پرندوں کی خیر ہو 

جو  ہاتھ تیرا تھام کے سِگنل کے پار ہوں 

ان خوش نصیب سارے ہی اندھوں کی خیر ہو