Showing posts with label سردار پنچھی. Show all posts
Showing posts with label سردار پنچھی. Show all posts

Thursday, 18 August 2022

غم آئیں تو آنے دو ہم ڈرتے نہیں غم سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


غم آئیں تو آنے دو ہم ڈرتے نہیں غم سے

لَو ہم نے لگا لی ہے سرکارِ دو عالمﷺ سے

کیا پیاس بُجھے میری ساگر ہیں سبھی کھارے

اِک بُوند کا طالب ہوں، اس وادیٔ شبنم سے

پرواز خیالوں نے، ہر دل نے نظر پائی

کیا کیا نہ ملا ہم کو اس حسنِ مجسمﷺ سے

Tuesday, 28 December 2021

مالی اداس ہے نہ یہ گلشن اداس ہے

 مالی اداس ہے نہ یہ گلشن اداس ہے

آندھی میں صرف ایک نشیمن اداس ہے

جمنا کے تیر بجتی ہے نیرو کی بانسری

رانجھے کا دیش ہیر کا مدھوبن اداس ہے

مجھ کو سکھی کا امتحاں لینا تھا لے لیا

میری بلا سے گر مِرا دامن اداس ہے

Tuesday, 7 December 2021

دعا کیجے وہ برگد اور بھی پھولے پھلے برسوں

 دعا کیجے وہ برگد اور بھی پھولے پھلے برسوں

کہ جس کی چھاؤں میں ہم آپ سے ملتے رہے برسوں

کوئی جگنو بھٹکتا آ گیا تو آ گیا، ورنہ

چراغِ قبر بن کر ہم اکیلے ہی جلے برسوں

یہ سنگِ میل بھی پہلے کوئی بھٹکا مسافر تھا

جسے اپنی ہی منزل ڈھونڈنے میں لگ گئے برسوں

Monday, 6 December 2021

ہم فقیری مزاج رکھتے ہیں

 ہم فقیری مزاج رکھتے ہیں

اپنی ٹھوکر میں تاج رکھتے ہیں

ہاتھ میں کاسہ اور مِرے حاکم

سر پہ سونے کا تاج رکھتے ہیں

سارے دنیا میں قاتل و مقتول

اپنا اپنا مزاج رکھتے ہیں

Sunday, 5 December 2021

اپنی ماں کی دعائیں پاتا ہوں

اپنی ماں کی دعائیں پاتا ہوں

اس لیے ہی تو مسکراتا ہوں

پیار کی بھوک جب ستاتی ہے

دوستوں سے فریب کھاتا ہوں

یہ بھی میرے لیے عبادت ہے

راستوں میں دِیے جلاتا ہوں

Friday, 20 August 2021

دے کے دستک شباب آتا ہے

 دے کے دستک شباب آتا ہے

بن بلائے حجاب آتا ہے

پہلے آنکھوں میں خواب آتا ہے

تب کہیں انقلاب آتا ہے

پھر تو رہتی نہیں ندی بیوہ

جب پہاڑوں سے آب آتا ہے