Tuesday, 7 December 2021

دعا کیجے وہ برگد اور بھی پھولے پھلے برسوں

 دعا کیجے وہ برگد اور بھی پھولے پھلے برسوں

کہ جس کی چھاؤں میں ہم آپ سے ملتے رہے برسوں

کوئی جگنو بھٹکتا آ گیا تو آ گیا، ورنہ

چراغِ قبر بن کر ہم اکیلے ہی جلے برسوں

یہ سنگِ میل بھی پہلے کوئی بھٹکا مسافر تھا

جسے اپنی ہی منزل ڈھونڈنے میں لگ گئے برسوں

یہ سر جو کاٹ کر ٹانگے گئے ہیں ان فصیلوں پر

اسی آتش بیانی سے رہیں گے بولتے برسوں

عجب سی موسمی فطرت ہے اپنے دیوتاؤں کی

نہیں پہچانتے وہ ہم جنہیں پوجا کیۓ برسوں

نہ تم ہو گے نہ ہم ہوں گے نہ اپنی محفلیں پنچھی

خلا میں گونجتے رہ جائیں گے یہ قہقہے برسوں


سردار پنچھی

کرنیل سنگھ

No comments:

Post a Comment