Tuesday, 7 December 2021

نہ قصیدہ نہ غزل اور نہ رباعی لکھئے

 نہ قصیدہ، نہ غزل اور نہ رباعی لکھیۓ

دورِ موجودہ میں کچھ دل کی تباہی لکھیۓ

زخم خوردہ غمِ دوراں سے ہیں جذباتِ لطیف

حسن اور عشق کی کیا مدح سرائی لکھیۓ

بجھ گئے دل میں امیدوں کے چراغِ روشن

یاس و حرماں کے اندھیروں کی سیاہی لکھیۓ

اب تو دنیا میں ہیں یوسف کے برادر لاکھوں

دشمنِ جاں کسے لکھیۓ کسے بھائی لکھیۓ

تختِ فرعون پہ بیٹھے ہیں جو انساں دشمن

ہم سے کہتے ہیں؛ انہیں ظلِ الٰہی لکھیۓ

کس عدالت میں کریں پیش مقدمہ دل کا؟

اب کہیں کس سے کہ اشکوں کی گواہی لکھیۓ


سیدہ فرحت

No comments:

Post a Comment