محوِ فریاد ہو گیا ہے دل
آہ، برباد ہو گیا ہے دل
سینہ کاری میں اپنے ناخن سے
رشکِ فرہاد ہو گیا ہے دل
دیکھتے دیکھتے ستم تیرا
سخت ناشاد ہو گیا ہے دل
محوِ فریاد ہو گیا ہے دل
آہ، برباد ہو گیا ہے دل
سینہ کاری میں اپنے ناخن سے
رشکِ فرہاد ہو گیا ہے دل
دیکھتے دیکھتے ستم تیرا
سخت ناشاد ہو گیا ہے دل
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پہلے یہ ہے کہ اندرین اخبار
یک حدیث اس طرح سے ہے اے یار
چیز اول کتاب و سنت ہے
دوسری چیز میری عترت ہے
یارو اس بات کو بھی حق سمجھو
ذکر سنت نہ جن حدیثوں میں ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آل اطہر کے فضل میں اے یار
ہوں گی قرآں میں آیتیں بسیار
آیتِ اول اے خجستہ خصال
جو ہے سرچشمۂ مناقبِ آل
بے تردد ہے آیتِ تطہیر
سُن اسے گوش سے بالتفسیر
دل کو لے جی کو اب لُبھاتے ہو
اس لیے بن بنا کے آتے ہو
عشق بن ہم تو کچھ گُنہ نہ کیا
بے گُناہوں کو کیوں ستاتے ہو
کوئی ایسا معاملہ نہ سنا
نہ تو آتے ہو نا بلاتے ہو