دل کو لے جی کو اب لُبھاتے ہو
اس لیے بن بنا کے آتے ہو
عشق بن ہم تو کچھ گُنہ نہ کیا
بے گُناہوں کو کیوں ستاتے ہو
کوئی ایسا معاملہ نہ سنا
نہ تو آتے ہو نا بلاتے ہو
باوجود اس جفا کے پیارے تم
کس قدر میرے من کو بھاتے ہو
ہم تو اول سے مست ہیں آگاہ
پھر ترانے یہ کیوں سُناتے ہو
آگاہ ویلوری
محمد باقر آگاہ شافعی ویلوری
No comments:
Post a Comment