Showing posts with label ضیا مذکور. Show all posts
Showing posts with label ضیا مذکور. Show all posts

Wednesday, 17 July 2024

وہ گھر چراغ تھا اور تیرگی یزید کی فوج

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ گھر چراغ تھا اور تیرگی یزید کی فوج

علیؑ کے نُور میں کیا دیکھتی یزید کی فوج

فُرات فرطِ نِدامت سے منہ چُھپاتا ہوا

اور اپنی پیاس چُھپاتی ہوئی یزید کی فوج

لڑائی آج بھی جاری ہے آب و تاب کے ساتھ

وہی حسینؑ کا کنبہ وہی یزید کی فوج

Friday, 29 April 2022

دوستوں بھائیوں کے ہوتے ہوئے

 دوستوں بھائیوں کے ہوتے ہوئے

گر گئے ہم جڑوں کے ہوتے ہوئے

خشک سالی سمجھ سے باہر ہے

اس قدر بارشوں کے ہوتے ہوئے

پانی گلیوں میں بہہ گیا سارا

اتنے خالی گھڑوں کے ہوتے ہوئے

Friday, 4 February 2022

ترے کیے کا زمانہ مجھ سے حساب لے گا

 تِرے کیے کا زمانہ مجھ سے حساب لے گا

کہ تیرا کیا ہے تجھے تو کوئی بھی بخش دے گا

میں اپنے بچوں کو خود پڑھاؤں گا اور ایسے

کہ کچھ کتابوں کا کوئی مطلب نہیں رہے گا

ہمارے پہلے بنانے والے تو مٹ گئے ہیں

ہمیں دوبارہ بنانے والوں کا کیا بنے گا

Wednesday, 23 June 2021

فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے

 فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے

اب کہ یہ لوگ تجھے ایسی جگہ بھیجیں گے

زندگی! دیکھ چکے تجھ کو بڑے پردے پر

آج کے بعد کوئی فلم نہیں دیکھیں گے

مسئلہ یہ ہے میں دشمن کے قرِیں پہنچوں گا

اور کبوتر مِری تلوار پہ آ بیٹھیں گے

Wednesday, 7 April 2021

یہ جو تکرار ہے ہمارے بیچ

 یہ جو تکرار ہے ہمارے بیچ

آخری بار ہے ہمارے بیچ

تازہ سرخی ہے اس کے ہونٹوں پر

کل کا اخبار ہے ہمارے بیچ

سال میں ایک دو ملاقاتیں

کس قدر پیار ہے ہمارے بیچ

Monday, 15 March 2021

اس طرح کوئی خود کو سنوارا نہیں کرتا

 اس طرح کوئی خود کو سنوارا نہیں کرتا

میں یونہی تو مڑ مڑ کے نظارا نہیں کرتا

دریا کو ابھی علم نہیں میری انا کا

میں ڈوب تو جاتا ہوں کنارا نہیں کرتا

دیوار بنا رہتا ہوں اس جسم کے آگے

جب تک کہ وہ خود کوئی اشارا نہیں کرتا

Sunday, 7 March 2021

اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے

 اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے

چھ دروازے توڑ چکا ہوں اک دروازہ باقی ہے

دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست

کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے

میں برسوں سے کھول رہا ہوں اک عورت کی ساڑی کو

آدھی دنیا گھوم چکا ہوں،۔ آدھی دنیا باقی ہے

Monday, 8 February 2021

میرے کمرے میں اک ایسی کھڑکی ہے

 میرے کمرے میں اک ایسی کھڑکی ہے

جو ان آنکھوں کے کھلنے پر کھلتی ہے

ایسے تیور دشمن ہی کے ہوتے ہیں

پتا کرو یہ لڑکی کس کی بیٹی ہے؟

رات کو اس جنگل میں رکنا ٹھیک نہیں

اس سے آگے تم لوگوں کی مرضی ہے

Saturday, 30 January 2021

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے

 وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے

ورنہ میں آتا مشورے کے لیے

تم کو اچھے لگے تو تم رکھ لو

پھول توڑے تھے بیچنے کے لیے

گھنٹوں خاموش رہنا پڑتا ہے

آپ کے ساتھ بولنے کے لیے

Friday, 29 January 2021

تم نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے

 تم نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے

جن لوگوں سے میرا جھگڑا ہوتا ہے

اس کے گاؤں کی ایک نشانی یہ بھی ہے

ہر نلکے کا پانی میٹھا ہوتا ہے

میں اس شخص سے تھوڑا آگے چلتا ہوں

جس کا میں نے پیچھا کرنا ہوتا ہے

Tuesday, 29 December 2020

آخری آندھی نے سب کچھ پہلے جیسا کر دیا

 آخری آندھی نے سب کچھ پہلے جیسا کر دیا

پردے میلے کر دئیے، قالین گندا کر دیا

میرے سارے لوگ رفتہ رفتہ اس کے ہو گئے

مجھ کو اس کی محفلوں نے اور تنہا کر دیا

آسمانوں سے ستارے، اور قبروں سے گلاب

مجھ سے پوچھو میں نے اس کو کیا نہیں لا کر دیا

Tuesday, 24 November 2020

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے

 بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے

پیار بڑھتا ہے اس رویے سے

میں وہی ہوں یقیں کرو میرا

میں جو لگتا نہیں ہوں چہرے سے

ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ

عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے

Sunday, 22 November 2020

کوئی بھی رستہ بہت سوچ کر چنوں گا میں

 کوئی بھی رستہ بہت سوچ کر چنوں گا میں

اور اب کی بار اکیلا سفر کروں گا میں

اسے لکھوں گا کہ وہ رابطہ کرے مجھ سے

اور اختتام پہ نمبر نہیں لکھوں گا میں

میں اور ہجر کے صدمے نہیں اٹھا سکتا

وہ اب جہاں بھی ملا ہاتھ جوڑ لوں گا میں

Saturday, 21 November 2020

کس طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر

 کس طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر

چھپکلی چڑھتے ہوئے دیکھی ہے اس تصویر پر

میرا دل بھی بچ گیا اور اس کا دل بھی بچ گیا

کیونکہ میں نے تیر کھینچا تھا عدو کے تیر پر

اس نے ایسی کوٹھری میں قید رکھا تھا ہمیں

روشنی آنکھوں پہ پڑتی تھی یا پھر زنجیر پر

Friday, 20 November 2020

اسی ندامت سے اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں

 اسی ندامت سے اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں

کہ ہم چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ہیں

یہاں سے جانے کی جلدی کس کو ہے تم بتاؤ؟

کہ سوٹ کیسوں میں کپڑے کس نے رکھے ہوئے ہیں

کرا تو لوں گا علاقہ خالی میں لڑ جھگڑ کر

مگر جو اس نے دلوں پہ قبضے کیے ہوئے ہیں