Friday, 4 February 2022

ترے کیے کا زمانہ مجھ سے حساب لے گا

 تِرے کیے کا زمانہ مجھ سے حساب لے گا

کہ تیرا کیا ہے تجھے تو کوئی بھی بخش دے گا

میں اپنے بچوں کو خود پڑھاؤں گا اور ایسے

کہ کچھ کتابوں کا کوئی مطلب نہیں رہے گا

ہمارے پہلے بنانے والے تو مٹ گئے ہیں

ہمیں دوبارہ بنانے والوں کا کیا بنے گا

حقیر میں بھی نہیں ہوں اپنے بڑوں سے کہنا

مِرا بھی شجرہ کسی پیمبر سے جا ملے گا

مِری نظر سے گزرتے منظر کو چھو بھی لو اب

یہ وقت کب تک تمہاری خاطر رکا رہے گا

یہ دل تو کچھ بھی نہیں ہے اس کی ہنسی کے آگے

وہ رو بھی دے گا تو ساری دنیا خرید لے گا

کسے خبر تھی میں جس کو دنیا پڑھا رہا ہوں

مِرا وہ بیٹا مِرا جنازہ غلط پڑھے گا


ضیا مذکور

No comments:

Post a Comment