ہوا شمالی
کسی نے چمنی کے سرخ کوئلوں سے
ایک ہچکی میں جیسے پوچھا
کہاں ہیں وہ خواب؟
کیسی تعبیر نکلی ان کی؟
حقیقتیں تو پہاڑ کی صورت کھڑی ہیں
ہوا شمالی
کسی نے چمنی کے سرخ کوئلوں سے
ایک ہچکی میں جیسے پوچھا
کہاں ہیں وہ خواب؟
کیسی تعبیر نکلی ان کی؟
حقیقتیں تو پہاڑ کی صورت کھڑی ہیں
کون سوچے گا
بچھڑتے وقت سوچا تھا
بچھڑ کر مل بھی جاتے ہیں
کہ ہم سب ہی سفر میں ہیں
سفر میں زندگی کے
موڑ اک ایسا بھی آئے گا
الزاموں کی صلیب
نیلے فلک پر چاند اگر ہمت کرتا ہے
دھیرے دھیرے سرکتا ہے
چیڑ کے نوکیلے برفیلے سائے میں
اُلو شور مچاتے اور کُتے بھونکنے لگتے ہیں
میں چار سُو رونے کی آوازیں سنتا ہوں اور ڈرتا ہوں
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
حبل الورید
کراں تا کراں پھیلتے آسماں
سکوت اور خلا سے پرے جانے کیا
میرے افکار کی جست سے ماوراء
میری منطق کی تفسیر سے لا مکاں
ہے کوئی؟ ہے کوئی؟
منزل دور ہے اب تک
مثالِ کارواں چلتا ہی رہتا ہے
کہیں پر سست رو ہوتا
کہیں سیلِ بلا ہوتا
کبھی قسعت میں بستی اور بیاباں کو
لبھاتا ہے کشش سے
اس ترک تعلق کا عجب مجھ پر اثر تھا
خود ہی وہ جلا ڈالا جو یادوں کا شجر تھا
صحرا میں گلابوں کو اُگانے کی تمنا
یہ خواب انوکھا سا مِرے پیش نظر تھا
وہ لوٹ کے اک دن جو پشیماں چلا آیا
میرے ہی وہ جذبوں کی صداقت کا سحر تھا