Showing posts with label حمیدہ رضوی. Show all posts
Showing posts with label حمیدہ رضوی. Show all posts

Saturday, 31 December 2022

ہوا شمالی سندیسہ لائی ہے

 ہوا شمالی


کسی نے چمنی کے سرخ کوئلوں سے

ایک ہچکی میں جیسے پوچھا

کہاں ہیں وہ خواب؟

کیسی تعبیر نکلی ان کی؟

حقیقتیں تو پہاڑ کی صورت کھڑی ہیں

Friday, 16 September 2022

بچھڑتے وقت سوچا تھا بچھڑ کر مل بھی جاتے ہیں

 کون سوچے گا


بچھڑتے وقت سوچا تھا

بچھڑ کر مل بھی جاتے ہیں

کہ ہم سب ہی سفر میں ہیں

سفر میں زندگی کے

موڑ اک ایسا بھی آئے گا

Friday, 9 September 2022

نیلے فلک پر چاند اگر ہمت کرتا ہے

 الزاموں کی صلیب


نیلے فلک پر چاند اگر ہمت کرتا ہے

دھیرے دھیرے سرکتا ہے

چیڑ کے نوکیلے برفیلے سائے میں

اُلو شور مچاتے اور کُتے بھونکنے لگتے ہیں

میں چار سُو رونے کی آوازیں سنتا ہوں اور ڈرتا ہوں

Monday, 29 August 2022

میرا خالق تو شہ رگ سے نزدیک ہے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام

حبل الورید


کراں تا کراں پھیلتے آسماں

سکوت اور خلا سے پرے جانے کیا

میرے افکار کی جست سے ماوراء

میری منطق کی تفسیر سے لا مکاں

ہے کوئی؟ ہے کوئی؟

Sunday, 28 August 2022

چلو آؤ چلیں پم سب سفر پر اب کہ منزل دور ہے اب تک

 منزل دور ہے اب تک


مثالِ کارواں چلتا ہی رہتا ہے

کہیں پر سست رو ہوتا

کہیں سیلِ بلا ہوتا

کبھی قسعت میں بستی اور بیاباں کو

لبھاتا ہے کشش سے

Thursday, 11 November 2021

اس ترک تعلق کا عجب مجھ پر اثر تھا

 اس ترک تعلق کا عجب مجھ پر اثر تھا

خود ہی وہ جلا ڈالا جو یادوں کا شجر تھا

صحرا میں گلابوں کو اُگانے کی تمنا

یہ خواب انوکھا سا مِرے پیش نظر تھا

وہ لوٹ کے اک دن جو پشیماں چلا آیا

میرے ہی وہ جذبوں کی صداقت کا سحر تھا