Thursday, 11 November 2021

اس ترک تعلق کا عجب مجھ پر اثر تھا

 اس ترک تعلق کا عجب مجھ پر اثر تھا

خود ہی وہ جلا ڈالا جو یادوں کا شجر تھا

صحرا میں گلابوں کو اُگانے کی تمنا

یہ خواب انوکھا سا مِرے پیش نظر تھا

وہ لوٹ کے اک دن جو پشیماں چلا آیا

میرے ہی وہ جذبوں کی صداقت کا سحر تھا

وہ میری وریدوں میں بھی موجود رہا ہے

میں کیسے بھلا دیتی نہیں اس سے مفر تھا

باقی رہا کانٹوں میں لہو ہونے کے با وصف

خودداری کا احساس مِرا کیسا نڈر تھا

لائق ہی نہ تھا کوئی مکیں دل میں جو رہتا

ورنہ یہ کشادہ تو بہت رہنے کو گھر تھا

جن کرچیوں سے میرا بدن آج لہو ہے

وہ ٹوٹ کے بکھرا مِرا ہی شیش نگر تھا

دل دھڑکا قدم ٹھٹھکے پلٹ کر ہوا معلوم

جس نے یہ صدا دی تھی تِرا راہگزر تھا

اک اندھا ارادہ لیے جاتا ہے کسی سمت

جب ٹھہرے تو دیکھا نہ سفر تھا نہ حضر تھا

اس لذتِ تخلیق کی کاوش میں پھنسا جو

نکلا نہ کبھی اس سے یہ ایسا ہی بھنور تھا

منزل نہ تھی کوئی نہ ہی رستہ نظر آتا

یہ سب اسی تفریق و تعصب کا ثمر تھا


حمیدہ معین رضوی

No comments:

Post a Comment