Showing posts with label لئیق سحاب. Show all posts
Showing posts with label لئیق سحاب. Show all posts

Wednesday, 3 April 2024

ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے

 ان کے رُخ پر حجاب رہتا ہے

جیسے مہ پر سحاب رہتا ہے

وصل کا جب سوال ہو ان سے

بس ''نہیں'' میں جواب رہتا ہے

پاس رہ کر بھی درمیاں اپنے

فاصلہ بے حساب رہتا ہے

Sunday, 10 March 2024

دیکھا اسے قمر مجھے اچھا نہیں لگا

 دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگا

چھو کر اسے، گہر مجھے اچھا نہیں لگا

چاہا اسے تو یوں کہ نہ چاہا کسی کو پھر

کوئی بھی عمر بھر مجھے اچھا نہیں لگا

آئینہ دل کا توڑ کے کہتا ہے سنگ زن

دل تیرا توڑ کر مجھے اچھا نہیں لگا

Wednesday, 24 January 2024

یک طرفہ محبت کسی نے مجھ سے پوچھا تھا

یک طرفہ محبت


کسی نے مجھ سے پُوچھا تھا

یہ یک طرفہ محبت کیسا رشتہ ہے؟

کہا میں نے؛

یہ یک طرفہ محبت درد کا ہی نام دُوجا ہے

ہمیشہ سنگدل دلبر کی چاہت کو ترسنا ہے

تمنّا دِید کی رکھنا

Friday, 19 January 2024

فلک پر سجا ہے سحاب محبت

 فلک پر سجا ہے سحابِ محبت

چلو مِل کے بانٹیں گُلابِ محبت

کریں آج تقلیدِ اِقرارِ چاہت

گِرا کر سبھی ہم حِجابِ محبت

سبھی باب اس کے کریں آج ازبر

چلو، آج کھولیں کتابِ محبت

Thursday, 26 November 2020

دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا

 دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا

ہاتھ دشمن سے جا ملایا تھا

آستینوں میں سانپ پالے تھے

دودھ خود ہی انہیں پلایا تھا

زخم کاری بہت لگا دل پر

تیر اپنوں نے اک چلایا تھا