ان کے رُخ پر حجاب رہتا ہے
جیسے مہ پر سحاب رہتا ہے
وصل کا جب سوال ہو ان سے
بس ''نہیں'' میں جواب رہتا ہے
پاس رہ کر بھی درمیاں اپنے
فاصلہ بے حساب رہتا ہے
ان کے رُخ پر حجاب رہتا ہے
جیسے مہ پر سحاب رہتا ہے
وصل کا جب سوال ہو ان سے
بس ''نہیں'' میں جواب رہتا ہے
پاس رہ کر بھی درمیاں اپنے
فاصلہ بے حساب رہتا ہے
دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگا
چھو کر اسے، گہر مجھے اچھا نہیں لگا
چاہا اسے تو یوں کہ نہ چاہا کسی کو پھر
کوئی بھی عمر بھر مجھے اچھا نہیں لگا
آئینہ دل کا توڑ کے کہتا ہے سنگ زن
دل تیرا توڑ کر مجھے اچھا نہیں لگا
یک طرفہ محبت
کسی نے مجھ سے پُوچھا تھا
یہ یک طرفہ محبت کیسا رشتہ ہے؟
کہا میں نے؛
یہ یک طرفہ محبت درد کا ہی نام دُوجا ہے
ہمیشہ سنگدل دلبر کی چاہت کو ترسنا ہے
تمنّا دِید کی رکھنا
فلک پر سجا ہے سحابِ محبت
چلو مِل کے بانٹیں گُلابِ محبت
کریں آج تقلیدِ اِقرارِ چاہت
گِرا کر سبھی ہم حِجابِ محبت
سبھی باب اس کے کریں آج ازبر
چلو، آج کھولیں کتابِ محبت
دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا
ہاتھ دشمن سے جا ملایا تھا
آستینوں میں سانپ پالے تھے
دودھ خود ہی انہیں پلایا تھا
زخم کاری بہت لگا دل پر
تیر اپنوں نے اک چلایا تھا