Sunday, 18 October 2026

جرم ایسا بھی مری جاں مجھ سے کیا ہونے لگا

 جُرم ایسا بھی مِری جاں مجھ سے کیا ہونے لگا

تیرے میرے درمیاں جو فاصلہ ہونے لگا

سادہ دل کو لُوٹتا ہے یہ زمانہ کس طرح

دھیرے دھیرے اب مجھے بھی تجربہ ہونے لگا

آبِ زم زم اور گنگا جل کو پی کر بولیے

کیا وہ غنڈہ اور موالی پارسا ہونے لگا؟

اب اُٹھا کر پھینک دِیجے ملک کے دستور کو

حکمراں کے حکم پر جب فیصلہ ہونے لگا

آپ کی آنکھوں نے جانے میرے دل سے کیا کہا

بعد جس کے سارا منظر خُوش نُما ہونے لگا


مونس فراز

No comments:

Post a Comment