Monday, 12 October 2026

ساقیا یہ درد گہرا ہے کوئی امداد کر

 ساقیا! یہ درد گہرا ہے کوئی امداد کر

ورنہ مجھ کو تیشہ دے کر تُو یہیں فرہاد کر

برگزیدہ ایک بسمل کی ہزاروں منزلیں

رقص کرتی ہیں کسی کے جملۂ ناشاد پر

قیس کو خانہ بدوش اور میر کو وحشت زدہ

اور مجھ کو عاشقوں کے درمیاں ایجاد کر

شور کرتی ہیں جنونی لونڈیاں بازار میں

ان کو سستے شاعروں کے دیس میں آباد کر

اے شہیدِ عشق! تُو بھی قابلِ تقلید ہے

لکھ رہا ہے ایک صوفی خرقۂ بغداد پر

نارسائی اور رسائی کے پرانے کھیل میں

بے وفاؤں کو مسلسل عمر بھر برباد کر

دیکھ کر لاشہ محبت کا سرِ مقتل مِری

سوچ ایسا کیوں ہُوا پھر عمر ساری یاد کر


سید مراد گیلانی

سید صدام گیلانی مراد

No comments:

Post a Comment