Monday, 12 October 2026

رخ سے پردا جو اٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

 رُخ سے پردا جو اُٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

تُو نے ہنگامہ مچا رکھا ہے توبہ توبہ

ایک تو آنکھیں تِری یار ہیں خنجر جیسی

اس پہ کاجل بھی لگا رکھا ہے توبہ توبہ

شیخ جی! آپ کو آخر یہ ہوا کیا ہے کہو

جام ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

چند پیسے کے لیے آپ نے کیونکر صاحب

اپنا ایمان گنوا رکھا ہے توبہ توبہ

سیدھے منہ بات بھی کرتے نہیں تم تو ہم سے

غیر کو پاس بٹھا رکھا ہے توبہ توبہ


مونس فراز 

No comments:

Post a Comment