Saturday, 31 October 2026

کس جگہ چھوڑا تھا وہ تیر و کماں یاد نہیں

 کس جگہ چھوڑا تھا وہ تیر و کماں یاد نہیں

تھا کہیں ساحلِ دریا پہ مکاں یاد نہیں

جانے کس سمت سے جاگے تھے وہ شعلے گھر میں

جانے کس سمت سے نِکلا تھا دُھواں یاد نہیں

مہکے خُوشبو سے تِری کتنے درِیچے دل کے

کس نے دی پھر مِرے لفظوں کو زباں یاد نہیں

ڈھونڈ کر لائے کوئی اب وہ خلش پہلی سی

کھو گئے تھے تِری آنکھوں میں کہاں یاد نہیں

وقت کی گود بھی آسیب زدہ لگتی تھی

امن کی ہم کو کوئی بھی تو اذاں یاد نہیں

اس قدر ہوش ہے کہ سامنے چہرہ تھا وہی

گُم ہوئے پھر اسی وحشت میں کہاں یاد نہیں

چاروں جانب ہے وہی درد کا صحرا طالب

ہم فقیروں کو کوئی کاہکشاں یاد نہیں


طالب قریشی

عبدالغفار قریشی

No comments:

Post a Comment