روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا
خورشید محبت ہے پیمانہ محبت کا
اے زاہد ناداں وہ کیا دیر و حرم جانے
دل جس کا ازل سے ہو دیوانہ محبت کا
رنگین شعاعوں سے معمور ہے ہر ذرہ
آباد تجلی ہے ویرانہ محبت کا
روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا
خورشید محبت ہے پیمانہ محبت کا
اے زاہد ناداں وہ کیا دیر و حرم جانے
دل جس کا ازل سے ہو دیوانہ محبت کا
رنگین شعاعوں سے معمور ہے ہر ذرہ
آباد تجلی ہے ویرانہ محبت کا
ملتفت جب سے نگاہِ ناز ہے
اور ہی کچھ عشق کا انداز ہے
گنگنایا نغمۂ دل حسن نے
سارا عالم گوش بر آواز ہے
پھیر کر منہ مسکرا کر دیکھنا
یہ ستانے کا نیا انداز ہے
میرے غم کی حقیقت کا زمانہ راز داں کیوں ہو
نہاں ہے راز جو دل میں وہ اشکوں سے عیاں کیوں ہو
سکون مستقل کیوں ہو، نشاط جاوداں کیوں ہو
جو دل میں درد ہے وہ باعث تسکین جاں کیوں ہو
چمن میں جس طرف دیکھو نشیمن ہی نشیمن ہیں
ٹھکانا برق کا میری ہی شاخ آشیاں کیوں ہو
سنگدل یوں بھی محبت کا صلہ دیتے ہیں
بھول کر عہد وفا رنج وفا دیتے ہیں
اپنے دیوانے کو کیا خوب سزا دیتے ہیں
دل کے ہر گوشے میں طوفان اٹھا دیتے ہیں
مدتیں گزریں ادھر سے کوئی گزرا ہی نہیں
روز ہم شمع جلاتے ہیں بجھا دیتے ہیں
ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں
دل عشق میں برباد ہے معلوم نہیں کیوں
دیکھا تھا کبھی خواب حسیں میں نے بھی اے دوست
اتنا تو مجھے یاد ہے معلوم نہیں کیوں
باقی ہے ابھی طول شب ہجر کا عالم
دل شام سے ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں