ذرا سی بات ہو کیا کیا سوال کرتا ہے
مِرا ہُنر مجھے اکثر نڈھال کرتا ہے
وہ چاٹ لیتا ہے دیمک کی طرح مستقبل
تمہیں پتہ نہیں ماضی جو حال کرتا ہے
مِرے وجود کو صدیوں کا سلسلہ دے کر
وہ کون ہے جو مجھے لا زوال کرتا ہے
ذرا سی بات ہو کیا کیا سوال کرتا ہے
مِرا ہُنر مجھے اکثر نڈھال کرتا ہے
وہ چاٹ لیتا ہے دیمک کی طرح مستقبل
تمہیں پتہ نہیں ماضی جو حال کرتا ہے
مِرے وجود کو صدیوں کا سلسلہ دے کر
وہ کون ہے جو مجھے لا زوال کرتا ہے
کوئی نہیں تھا ہنر آشنا تمہارے بعد
میں اپنے آپ سے الجھا رہا تمہارے بعد
یہ میری آنکھیں بڑی تیز روشنی میں کھلیں
میں چاہتا بھی تو کیا دیکھتا تمہارے بعد
ہر ایک بات ہے الجھی ہوئی زبان تلے
ہر ایک لفظ کوئی بد دعا تمہارے بعد
منزل کہاں ہے؟ دور تلک راستے ہیں یار
کس جستجو میں خواب کے یہ قافلے ہیں یار
پل پل بدلتا رہتا ہے تہذیب کا مزاج
لمحوں کی دسترس میں عجب سلسلے ہیں یار
ہے سابقہ ہزار مراحل سے، اور پھر
اس زندگی کے بعد بھی کچھ مرحلے ہیں یار
جدائیوں کے تصور ہی سے رُلاؤں اسے
میں جُھوٹ مُوٹ کا قصہ کوئی سناؤں اسے
اسے یقین ہے کتنا مِری وفاؤں کا
خلاف اپنے کسی روز ورغلاؤں اسے
وہ تپتی دھوپ میں بھی میرے ساتھ آئے گا
مگر میں چاندنی راتوں میں آزماؤں اسے
تم تھے خدا تھا، اور مجسم دعا تھا میں
یوں ہی تمہارے نام نہ لکھا گیا تھا میں
خواہش کے پھیلتے ہوئے منظر میں تم ہی تم
جذبوں کے اک حصار میں سمٹا ہوا تھا میں
کچھ یہ بھی تھا کہ تم نے مجھے آسماں کیا
کچھ یوں بھی تھا کہ خود میں کہیں کھو گیا تھا میں