Showing posts with label حامد صدیقی. Show all posts
Showing posts with label حامد صدیقی. Show all posts

Thursday, 13 July 2023

ذرا سی بات ہو کیا کیا سوال کرتا ہے

 ذرا سی بات ہو کیا کیا سوال کرتا ہے

مِرا ہُنر مجھے اکثر نڈھال کرتا ہے

وہ چاٹ لیتا ہے دیمک کی طرح مستقبل

تمہیں پتہ نہیں ماضی جو حال کرتا ہے

مِرے وجود کو صدیوں کا سلسلہ دے کر

وہ کون ہے جو مجھے لا زوال کرتا ہے

Sunday, 25 June 2023

کوئی نہیں تھا ہنر آشنا تمہارے بعد

 کوئی نہیں تھا ہنر آشنا تمہارے بعد

میں اپنے آپ سے الجھا رہا تمہارے بعد

یہ میری آنکھیں بڑی تیز روشنی میں کھلیں

میں چاہتا بھی تو کیا دیکھتا تمہارے بعد

ہر ایک بات ہے الجھی ہوئی زبان تلے

ہر ایک لفظ کوئی بد دعا تمہارے بعد

Wednesday, 14 June 2023

منزل کہاں ہے دور تلک راستے ہیں یار

 منزل کہاں ہے؟ دور تلک راستے ہیں یار

کس جستجو میں خواب کے یہ قافلے ہیں یار

پل پل بدلتا رہتا ہے تہذیب کا مزاج

لمحوں کی دسترس میں عجب سلسلے ہیں یار

ہے سابقہ ہزار مراحل سے، اور پھر

اس زندگی کے بعد بھی کچھ مرحلے ہیں یار

Tuesday, 13 June 2023

جدائیوں کے تصور ہی سے رلاؤں اسے

 جدائیوں کے تصور ہی سے رُلاؤں اسے

میں جُھوٹ مُوٹ کا قصہ کوئی سناؤں اسے

اسے یقین ہے کتنا مِری وفاؤں کا

خلاف اپنے کسی روز ورغلاؤں اسے

وہ تپتی دھوپ میں بھی میرے ساتھ آئے گا

مگر میں چاندنی راتوں میں آزماؤں اسے

Sunday, 11 June 2023

تم تھے خدا تھا اور مجسم دعا تھا میں

 تم تھے خدا تھا، اور مجسم دعا تھا میں

یوں ہی تمہارے نام نہ لکھا گیا تھا میں

خواہش کے پھیلتے ہوئے منظر میں تم ہی تم

جذبوں کے اک حصار میں سمٹا ہوا تھا میں

کچھ یہ بھی تھا کہ تم نے مجھے آسماں کیا

کچھ یوں بھی تھا کہ خود میں کہیں کھو گیا تھا میں