Showing posts with label عمران ظفر. Show all posts
Showing posts with label عمران ظفر. Show all posts

Monday, 1 February 2021

خوف کی لہر اک اٹھی ہے ابھی

تضمین بر کلام ناصر کاظمی


خوف کی لہر اک اُٹھی ہے ابھی

ہر طرف کھلبلی مچی ہے ابھی

یہ وبا سُن}ی ہے کہ شیعہ ہے؟

یہی تحقیق چل رہی ہے ابھی

"کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی"

پھر وبا بھی نئی نئی ہے ابھی

Friday, 8 May 2020

وبائے عام میں عمران ڈر جانا نہیں آتا

کورونا شاعری

وبائے عام میں عمران ڈر جانا نہیں آتا
ذرا محتاط ہوتے ہیں، پہ گھبرانا نہیں آتا
مجھے بھی جینا آتا ہے بہ طرزِ حضرتِ غالب
وبا کے خوف سے گھٹ گھٹ کے مر جانا نہیں آتا
مرض یہ عارضی ہے، دائمی تو ہو نہیں سکتا
کوئی بھی درد ہو اس کو ‘‘ٹھہر’’ جانا نہیں آتا

اس کورونا نے کھڑی کیسی مصیبت کر دی

کورونا شاعری

اس کورونا نے کھڑی کیسی مصیبت کر دی
پوری دنیا میں بپا گویا ‘‘قیامت’’ کر دی
سوچتا ہوں جو نتائج تو لرز جاتا ہوں
لاک ڈاؤن تو کیا، نرمی میں عجلت کر دی
یہ بھی خدشہ ہے کہ فاقوں کی وبا پھوٹے گی
لاک ڈاؤن میں اگر اور طوالت کر دی

خوف و ہراس پھیلا ہے قرب و جوار میں

کورونا شاعری

خوف و ہراس پھیلا ہے قُرب و جوار میں
جب سے وبا یہ آئی ہے اپنے دیار میں
اک پَل تو یوں لگا کہ کورونا مجھے بھی ہے
میں نے علامتیں جو پڑھیں اشتہار میں
کیسی ہے یہ وبا؟ کہ کوئی پوچھتا نہیں
بیگانے ہو کے رہ گئے اپنے دیار میں

یوں نہ مل مجھ سے ڈرا ہو جیسے

کورونا شاعری

یوں نہ مِل مجھ سے ڈرا ہو جیسے
تن مِرا وجہِ وبا ہو جیسے
اپنے ‘احساس’ کی دھجی نہ اڑا
میرا حق، تیری عطا ہو جیسے
دی جو امداد تو اس ناز کے ساتھ
’’مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے‘‘